Brailvi Books

آدابِ طعام
430 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
والے کو بھی وہ کچھ نہیں بولے۔ کچھ عرصے کے بعد دیکھا کہ انتِظام بِالکل دُرُست ہے اور حالات بدل گئے ہیں تو اُسی شخص نے پھر پوچھا ، کہ آج کل کون ہیں؟ شاہ صاحِب نے فرمایا، ایک سَقّا ہیں جو چاندنی چوک میں پانی پلاتے ہیں مگر ایک گلاس کی ایک چَھدام(چَھدام ان دنوں سب سے چھوٹا سکّہ تھا یعنی ایک پیسے کاچوتھائی حصّہ)لیتے ہیں ۔ یہ ایک چَھدام لے گئے اور ان کودیکر ان سے پانی مانگا ۔اُنہوں نے پانی دیا انہوں نے پانی گرادیا اور دوسرا گلاس مانگا۔ اُنہوں نے پوچھا، اور چَھدام ہے؟کہا ،نہیں۔ اُنہوں نے ایک دَھول(چانٹا)رَسید کیا اور کہا ، خربوزہ والا سمجھا ہے؟
 ( سچی حکایات حصہ سِوُم ص۹۷ ،مکتبہ جامِ نور،دہلی )
اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
رُوحانی حاکم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ والے روحانی حاکِم ہوتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوّجَلَّ کی عطا سے غیب کی باتیں ان اللہ والوں کے عِلم میں ہوتی ہیں۔ ہر ولی کی ولایت کا شُہرہ اور دُھوم دَھام ہونا کوئی ضَروری نہیں۔ یہ حضرات مُعاشَرے کے ہر طبقے میں ہوتے ہیں ۔ کبھی مزدور کے بھیس میں، کبھی سبزی اور پھل فروش کی صورت میں ، کبھی تاجر یا ملازِم کی شکل میں ، کبھی چوکیدار یامِعمار کے روپ میں بڑے بڑے اولیاء ہوتے ہیں۔ہر کو ئی ان کی شناخت نہیں کر سکتا ۔ہمیں کسی بھی مسلمان کو حقیر نہیں جاننا
Flag Counter