بَہُت کم کسی کوپسند فرماتے تھے لیکن حضرت سیِّدنا شیخ احمد نہروانی
قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانی
کے بارے میں فرمایا کرتے تھے اگر شیخ احمد نہروانی
قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانی
کی اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ مشغولیّت کو وزْن کیا جائے تو دس صُوفیوں کی مشغولیّت کے برابر ہو گی ۔آپ کا پیشہ کپڑے کی بُنائی تھی ۔ حضرتِ سیِّدُنا شیخ نصیرُالدّین محمود علیہ رحمۃ المعبود فرماتے ہیں کہ گھر پر کپڑے کی بُنائی کرتے ہوئے کبھی کبھی شیخ احمد نہروانی
قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانی
پر ایسا حال طاری ہو جاتا کہ آپے سے باہَر ہو جاتے مگر کپڑا خود بخود بُنتا چلا جاتا۔ایک دن آپ کے پیرو مُرشِد حضرتِ سیِّدُنا قاضی حمیدُ الدّین ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ بوقتِ رخصت مُرشِدنے فرمایا، اے احمد! آخِر کب تک یہ کام کرتے رہو گے؟ یہ کہہ کروہ تشریف لے گئے ۔شیخ احمد نہروانی
قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانی
اُسی وَقت (چرخے کی)میخ کَسنے کے لئے اٹھے کہ یکایک آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ہاتھ مبارَک چرخے میں الجھ کر ٹوٹ گیا۔ اِس واقِعہ کے بعد شیخ احمد نہروانی
قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانی
نے ''بافِندَگی (کپڑے کی بُنائی )کا پیشہ