کو اچّھی طرح یاد ہے کہ ایک شوخ مزاج تَنُومند نوجوان جوڑیا بازار (بابُ المدینہ کراچی)میں مَزدوری کیا کرتا تھا وہ خوب جاندار ہونے اور تڑاق پڑاق بولنے کے سبب کافی نُمایاں تھا۔ پھر اُس کا ایک دور آیاکہ وہ اندھا ہوگیا اور نہایت ہی افسُردگی کے ساتھ بھیک مانگتا پھرتا تھا۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہ شرابی تھا اور ایک بار ناقِص شراب پی لینے کے سبب اِس کی آنکھوں کے دِیے(یعنی چَراغ)بجھ گئے! ؎
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
گرآئے شرابی مٹے ہر خرابی چڑھائے گا ایسا نشہ مَدَنی ماحول
اگر چور ڈاکو بھی آجائیں گے تو سُدھر جائیں گے گر ملا مَدَنی ماحول
نَمازیں جو پڑھتے نہیں ہیں ان کو لارَیب
نمازی ہے دیتا بنا مَدَنی ماحول
کرلے توبہ اور تُو مت پی شراب ہوں گے ورنہ دوجہاں تیرے خرا ب
جو جُوآ کھیلے ، پئے ناداں شراب قبر و حشر و نار میں پائے عذاب