Brailvi Books

آدابِ طعام
426 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
شراب کےطبّی نُقصانات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام نے شراب نوشی کو جو حرام قرار دیا ہے اِس میں بے شُمار حکمتیں ہیں، اب کُفَّار بھی اِس کے نقصانات کو تسلیم کرنے لگے ہیں ، چُنانچِہ ایک غیر مسلم مُحَقِّق کے تَأَثُّرات کے مطابِق شروع شروع میں تو بدنِ انسانی شراب کے نقصانات کا مقابلہ کرلیتا ہے اور شرابی کو خوشگوار کیفیت مل جاتی ہے مگرجلد ہی داخِلی(یعنی جسم کی اندرونی)قوّتِ برداشْتْ ختم ہوجاتی اورمُستقِل مُضِرّ اثرات مُرتَّب ہونے لگتے ہیں ۔ شراب کا سب سے زیادہ اثر جگر(کلیجی)پر پڑتا ہے اور وہ سُکڑنے لگتا ہے ، گُردوں پر اِضافی بوجھ پڑتا ہے جو بِالآخِر نِڈھال ہوکر انجامِ کار ناکارہ (FAIL)
ہو جاتے ہیں،عِلاوہ ازیں شراب کے استِعمال کی کثرت دِماغ کو مُتَوَرَّم(یعنی سُوجن میں مُبتَلا)کرتی ہے، اَعصاب میں سوزِش ہو جاتی ہے نتیجۃً اَعصاب کمزور اور پھر تباہ ہو جاتے ہیں، شرابی کے مِعدہ میں سُوجن ہو جاتی ہے، ہڈّیاں نرم اور خَستہ (یعنی بَہُت ہی کمزور )ہو جاتی ہیں، شراب جسم میں موجود وٹامنز کے ذخائر کو تباہ کرتی ہے وٹامنB اورC اِس کی غار تگری کا بِالخصوص نشانہ بنتے ہیں۔ شراب کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی کی جائے تو اِس کے نقصان دہِ اثرات کئی گُنا بڑھ جاتے ہیں اور ہائی بلڈپریشر ،سٹروک اور ہارٹ اٹیک کا شدید خطرہ رہتا ہے۔ بکثرت شراب پینے والا تھکن ، سر درد ، متلی اور شدّتِ پیاس میں مبتَلا
Flag Counter