اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں ،''حضرتِ سیِّدُنا حُسین بن منصور حَلّاج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جن کو عوام ''منصور'' کہتے ہیں،منصور ان کے والِد کانام تھا، اور ان کا اسمِ گرامی حُسین۔(آپ)اکابرِ اہلِ حال سے تھے ۔ ان کی ایک بہن ان سے بَدَرَجَہَ مرتبہ وِلایت و معرِفت میں زائد تھیں۔ وہ آخِرِ شب کوجنگل تشریف لے جاتیں اور یادِالہٰی عَزَّوّجَلَّ میں مصروف ہوتیں ۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی بہن کو نہ پایا،گھر میں ہر جگہ تلاش کیا، پتا نہ چلا ، ان کو وَسوَسہ گزرا۔ دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کرجاگتے رہے، وہ اپنے وَقت پر اُٹھ کر چلیں، یہ آہِستہ آہِستہ پیچھے ہو لئے، دیکھتے رہے ، آسمان سے سونے کی زنجیر میں یا قوت کا جام اُترا اوراُن کے دَہنِ مبارَک (یعنی مُنہ شریف)کے برابر آ لگا، انھوں نے پینا شروع کیا، ان سے صَبْر نہ ہو سکا کہ یہ جنّت کی نعمت (مجھے) نہ ملے، بے اختِیار کہہ اُٹھے کہ بہن! تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑ دو، انھوں نے ایک جُرعہ (یعنی ایک گُھونٹ )چھوڑ دیا، انھوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہر جڑی بوٹی ہر درو دیوار سے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کا زِیادہ مُستَحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیا جائے؟ اُنھوں نے کہنا شروع کیا، ''اَنَالَاَحَق''( اَنا ۔لَ۔ اَحَق) یعنی بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزا وار(یعنی حقدار)ہوں۔ لوگوں کے سُننے میں آیا'' اَنَا الْحَق''( یعنی میں حق ہوں)وہ (لوگ )دعوی خدائی سمجھے ،اور یہ (یعنی خدائی کا دعویٰ)کُفرہے اور مسلمان ہو کر جوکُفر