| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
خدمت ہوئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرتِ سیِّدنا حُسین بن منصور حَلّاج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اَشعار اور مُناجات لکھوا کر میرے لئے تیّار رکھے تھے جو مجھے عطا فرما دیئے۔ دوسرے دَرویش کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اُس کی تِلّی کی تکلیف دُور ہوگئی ۔ تیسرے سے فرمایا، صابُونی حلوہ(برفی)شاہی درباروں کی غذا ہے مگر آپ نے لباسِ صُوفیا پہن رکھا ہے! دو میں سے ایک چیز اخیتار کیجئے۔
(کشف المحجوب ص ۳۸۴)
اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
(۴۳)کیا حسین بن منصور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اَنَاالْحَق کہا تھا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے اللہ عَزَّوّجّلَّ کی عطا سے اولیاء ُاللہ لوگوں کے دلوں کے اَحوال جان لیتے ہیں، جبھی تو حضرتِ سیِّدُنا شَیخ ابنِ عَلا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بِغیر پوچھے حُضُور داتا گنج بَخش حضرتِ سیِّدُنا علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اوران کے اَحباب کی دِلی مُراد یں بیان کر دیں اور دو کی مُراد یں پوری فرما کر تیسرے کو اِصلاح کا مَدَنی پھول عنایت فرمایا۔اس حکایت میں حضرتِ سیِّدنا حُسین بن منصور حَلّاج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ذِکرِ خیر بھی موجود ہے ۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے
اَنَاالْحَقّ
یعنی ''میں حق(خدا )ہوں '' کہا تھا۔ اِس غَلَط فَہمی کا رَدّ کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰحضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰناشاہ امام