صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
حُضُور داتا گنجِ بخش حضرتِ سیِّدُنا علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ہم تین اَحباب حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابنِ عَلا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زِیارت کے لئے '' رملہ''نامی گاؤں کی طرف چلے۔ راستہ میں یہ طے کیا کہ ہم میں سے ہر شخص کوئی نہ کوئی مُراد اپنے دل میں رکھ لے۔ میں نے یہ مُراد رکھی ، مجھے حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابنِ عَلا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حُسین بن منصور حَلّاج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مُناجات اور اَشعار دَرکا ر ہیں۔ دُوسرے نے یہ مُرادطے کی کہ مجھے تلّی کی بیماری سے شِفا حاصِل ہو جائے۔ تیسرے نے کہا، مجھے حلوہ صابُونی (یعنی برفی)کھانے کی خواہِش ہے۔ جب ہم لوگ حاضِرِ
عطائے حبیبِ خدا مَدَنی ماحول ہے فیضانِ غوث و رضا مَدَنی ماحول
اے بیمارِ عصیاں تُو آجا یہاں پر گناہوں کی دیگا دوا مَدَنی ماحول
سنور جائے گی آخِرت ان شاء َاللہ
تم اپنائے رکھو سدا مَدَنی ماحول