جب مصیبت کے ایاّ م میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوڑے مارنے والے کے روبرو پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ''ابو الْہَیْثَمعیاّر ''نامی ایک شخص کے ذَرِیعے آپ کی مدد فرمائی وہ آپ کے پاس آیا اورکہنے لگا،'' اے احمد !میں فُلاں چور ہوں مجھے اٹھارہ ہزار کوڑے مارے گئے تاکہ چوری کا اقرار کرلوں مگر میں نے اقرار نہ کیا حالانکہ جانتا تھا کہ جھوٹا ہوں ۔آپ کہیں کوڑے کی مار سے گھبرا نہ جائیں، آپ تو حق پر ہیں۔ پس جب آپ کو کوڑے مارنے سے درد ہوتا تو چور کی بات ذِہن میں لے آتے بعد ازاں آپ ہمیشہ اس کے لئے دُعا ئے رَحمت فرماتے۔''
(الطبقات الکبریٰ ج۱ص۷۸،۷۹)
حضرتِ سیِّدُنا بشربن الحارث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''آپ کو (آگ کی)بھٹّی (یعنی جیل)میں ڈال کرآزمایا گیا اورآپ(استقامت کی وجہ سے)سُرخ سونا بن کر نکلے ۔ '' (ایضاًج۱ص۸۰)
ولیوں پر اللہ جلّ جلالہ کی کرم نوازیاں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں پیش آنیوالی تکالیف کو خَندہ پیشانی سے برداشت کرنے والوں کا بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ