Brailvi Books

آدابِ طعام
415 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
جب تک ہوش قائم تھا کوڑے کی ہر ضَرب پرفرماتے ، '' میں نے مُعتَصِم کا قُصور مُعاف کیا۔'' بعد میں لوگوں نے جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اِس کی وجہ دریافت کی تو فرمایا، مُعتَصِم بِاللہ، سلطانِ دوجہان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چچا جان حضرتِ سیِّدنا عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے ہے ۔ مجھے اس بات سے شَرم آتی ہے کہ بروزِ قِیامت کہیں یہ نہ کہہ دیاجائے کہ احمد بن حنبل نے سلطانِ دوجہان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چچا جان کی آل کومُعاف نہیں کیا!
 ( مُلَخَّصاً معدنِ اَخلاق حصہ ۳ ص ۳۷ تا ۳۹، دارالکتب حنفیہ باب المدینہ کراچی)
حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کومسلسل اٹھائیس ماہ (سوا دو سال سے زائد)قید میں رکھا گیا، اِس دَوران آپ پر ہر رات کوڑے برسائے جاتے یہاں تک کہ آپ پر غشی طاری ہو جاتی ، تلوار کے چَر کے (زَخم)لگائے گئے ، پاؤں تلے رَوندا گیا۔مگر مرحبا! استقامت! اتنی اتنی مصیبتیں ٹوٹنے کے باوُجُود آپ ثابِت قدم رہے
 (الطبقات الکبریٰ ج۱ص۷۹)
حضرتِ سیِّدُنا علامہ حافِظ ابنِ جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ محمد بن اسمٰعیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے نَقل کرتے ہیں ، حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو 80 کوڑے ایسے مارے گئے کہ اگر ہاتھی کو مارے جاتے تو وہ بھی چیخ اٹھتا! مگر واہ رے صبرِ امام!
 ( مُلَخَّصاً معدنِ اَخلاق حصہ ۳ ص ۱۰۶ دارالکتب حنفیہ باب المدینہ کراچی)
Flag Counter