Brailvi Books

آدابِ طعام
414 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
بِشر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کا حال دریافت کیا تو فرمایا، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضِر ہیں ، ان کے سامنے ایک خوان ہے اور رَبِّ کریم جَلَّ جَلاَ لُہٗ ان پر مُتَوَجِّہ ہے، فرما رہا ہے کہ اَے دُنیا میں نہ کھانے اور نہ پینے والے ! اِس جہان میں کھااور لُطف اُٹھا۔
 (شرحُ الصدورص ۲۸۹)
اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
(۳۹)کوڑے کی ہر ضَرب پر مُعافی کا اعلان
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندے دین کی خاطِر تکالیف اُٹھا کر دُنیا سے جب رُخصت ہو جاتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کا کس قَدَر اِعزاز فرماتا ہے۔ جی ہاں کروڑوں حَنبلیوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُناابو عبدُاللہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حق کی خاطِر بَہُت زِیادہ مَشَقَّتیں جَھیلی ہیں چُنانچِہ ایک موقع پر عبّاسی خلیفہ مُعتَصِم بِاللہ کے حکم پر جلّاد سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بَرَہْنہ پیٹھ پر باری باری کوڑے برسانے لگے جس سے مُقدّس پُشت لُہو لہان ہوگئی اور کھال مبارَک اُدھڑ گئی، اِسی دوران آپ کا پاجامہ شریف سَرَکنے لگا تو بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں دعاء کی،''یااللہ !عَزَّوَجَلَّ تُو جانتا ہے کہ میں حق پر ہوں، مجھے بے پردَگی سے بچا لے ۔''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ پاجامہ شریف مزید سَرَکنے سے رُک گیااورپھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے ہوش ہوگئے۔
Flag Counter