کیا سُلوک فرمایا؟ جوابدیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری مغفِرت فرما دی، میرے سرپر تاج سجایا اور پاؤں میں سونے کی جوتیاں پہنائیں اور فرمایا، اَے احمد ! یہ سب کچھ اِس وجہ سے ہے کہ تُو نے قراٰن کو میرا(یعنی اللہ کا)کلام کہا ۔اللہ تبارَکَ وَ تَعالیٰ نے مزیدفرمایا، اَے احمد ! مجھ سے وہ دعاء کر جو تُو دُنیا میں کِیا کرتا تھا۔ میں نے عرض کی ، اَے میرے ربّ عزوجل !ہر چیز ۔۔۔۔۔"میں ابھی اِتناہی کہنے پایا تھا کہ ارشاد ہوا، ہر چیز تیرے لئے موجود ہے۔ اِس پر میں نے عرض کی، ہر چیز پر تیری قدرت کے سبب ۔ فرمایا، تُو نے سچ کہا۔ میں نے عرض کی ،یااللہ!عزوجل مجھ سے حساب نہ لے بس میری مغفِرت فرما دے۔ فرمایا،جا ایسا ہی کر دیا۔ پھر ارشاد ہوا،اَے احمد! یہ جنّت ہے اس میں داخِل ہوجا۔ جب میں داخِل ہوا تو حضرتِ سیِّدُناسُفیان ثَوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں پہلے سے موجود تھے، ان کے دو پر تھے جن سے وہاں ایک کَھجور کے دَرَخت سے دوسرے دَرَخت پر اُڑ تے پھررہے تھے اور ان کی زَبان پرجاری تھا،'' سب خوبیاں اُس اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ہم سے کئے ہوئے وعدے کو سچ کر دکھایا اور سر زمینِ جنّت کا ہم کو وارِث بنایا ، جنّت میں ہم جہاں چاہتے ہیں ٹِھکانہ بناتے ہیں تو عمل کرنے والوں کا اجر بَہُت ہی بہتر ہے۔"میں نے پوچھا ، حضرتِ سیِّدُنا عبدالوَہّاب ورّاق علیہِ رَحمۃُ الرَّزاق کا کیا حال ہے؟ تو کہا، میں ان کو نور کے سَمُندر میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں نے حضرتِ سیِّدنا