یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا سُلوک فرمایا؟ جواب دیا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری مغفِرت فرما دی۔ پوچھا ،کو ن سا عمل کام آ گیا ؟ جواب دیا، ایک بار حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حَنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دریا کے کَنارے وُضُو فرمارہے تھے اور وَہیں میں بُلندی کی طرف وُضُو کرنے بیٹھ گیا ، جب میری نظر امام صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر پڑی تو تعظیماً نیچے کی جانب آ گیا۔ بس یِہی '' تعظیمِ ولی'' والا عمل کام آ گیا اور میں بخشا گیا۔
اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
مشہور مُحَدِّث حضرتِ سیِّدُنا محمد بن خُزَیمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، جب حضرتِ سیِّدُنا امام ابو عبدُاللہ احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات ہوئی میں سخت غمگین ہوا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نازو ا دا سے چل رہے ہیں۔ میں نے عرض کی، اے ابو عبدُاللہ! یہ کیسی چال ہے؟ فرمایا، یہ جنّت میں خُدّام کی چال ہے ۔عرض کی،
یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ