Brailvi Books

آدابِ طعام
411 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
بھی پرہیز کرتے تھے ۔قاضی(یعنی جج )کی آمدنی اگر چِہ حرام کی نہیں ہوتی تاہَم ان کا مکمَّل طور پر انصاف کرنا دُشوار ہوتا ہے اگروہ انصاف سے کام لیں تب بھی چونکہ وہ گورنمنٹ کے ملازم ہوتے ہیں اور ان کی تنخواہ حُکومت ادا کرتی ہے اور حکمران عُمُوماً ظُلم و عُدوان سے بچ نہیں پاتے نیز ان کے خزانے میں رقم کا ستھرا ہونا بھی مشکِل ہو تا ہے کہ یہ لوگ اکثر ظُلم کے ذَرِیعے مال حاصِل کرتے ہیں۔لہٰذا محض تقویٰ اور احتیاط کے سبب حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قاضی کے خمیر والی روٹی نہیں کھائی اور جب وُہی روٹی دریائے دِجلہ میں ڈالی گئی تو وہاں کی مچھلی کھانی بھی ترک فرما دی کہ کہیں ایسی مچھلی پیٹ میں نہ چلی جائے جس نے وہ روٹی کھائی ہو!
(۳۶)امام احمد بن حَنبل (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )کی کرامت
    حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑی شان کے مالِک تھے منقول ہے کہ کسی خاتون کے ہاتھ پاؤں شَل ہو گئے، اُس نے اپنے بیٹے کو دُعا کیلئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس بھیجا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اَحوال سُننے کے بعد وُضُو کر کے نَمازشُروع کر دی، جب وہ نوجوان گھر پہنچا تو ماں صِحَّت یا ب ہو چکی تھی اور اُس نے خود آ کر دروازہ کھولا۔
        (تذکرۃ الاولیاء ص ۱۹۶)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں کی تعظیم کرنا بڑے ثواب کا کام ہے چُنانچِہ
Flag Counter