کروڑوں حَنبلیوں کے عظیمُ المرتبت پیشوا حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حَنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے شَہزادے حضرتِ صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اِصفہان کے قاضی تھے۔ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حَنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خادِم نے حضرتِ صالِح کے مَطبَخ(یعنی باورچی خانہ)سے خمیر لے کر روٹی تیاّر کر کے امام صاحِب کی خدمت میں پیش کی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اِستِفسار فرمایا،یہ اس قَدَر نرم کیوں ہے؟ خادِم نے خمیر لینے کی کیفیّت بتا دی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا، میرا بیٹا جو کہ ِاصفہان کا قاضی ہے اُس کے یہاں سے خمیر کیوں لیا! اب یہ روٹی میں نہیں کھاؤں گا یہ کسی سائل کو دیدو مگر اُس کو بتا دینا کہ اس روٹی میں قاضی کا خمیر شامل ہے ۔ اِتّفاق سے چالیس روز تک کوئی سائل نہیں آیا یہاں تک کہ روٹی میں بُو پیدا ہو گئی ۔ خادِم نے وہ روٹی دریائے دِجلہ میں ڈال دی ۔حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حَنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا تقویٰ مرحبا! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس دن کے بعد دریائے دِجلہ کی مچھلی کبھی نہیں کھائی۔