میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مَعاذاللہ عَزَّوَجَلَّ آج مسلمان کے جینے کاانداز بے حدخراب ہوتا جارہا ہے۔ ا فسوس صد کروڑ افسوس! اکثر مسلمانوں کے لباس کی تَراش خَراش، سر اور چہرے کا اندازو غیرہ سب کافِروں کی سڑی ہوئی تہذیب کا عکّاس ہے۔ شیطان کے اس وَسوَسے میں نہیں آنا چاہئے کہ ہم اگر داڑھی اور عمامہ شریف میں رہیں گے تو لوگ ہم سے دُور بھاگیں گے۔ ہرگز ایسا نہیں، لوگ مَدَنی حُلیوں سے نہیں بُری حَرَکتوں ، چَرب زَبانیوں اور بد اَخلاقیوں سے دُور بھاگتے ہیں ۔ آپ بَصَد اِخلاص سنّتوں کی چلتی پھرتی تصویر بن جایئے، اپنے اَخلاق سنوار لیجئے، زَبان کو قابو میں رکھنے کی مشق کیجئے، میٹھے بول بولئے پھر دیکھئے کس طرح لوگوں کے دل آپ کی طرف مائل ہوتے ہیں! ابھی آپ نے عاشِقانِ رسول کے بارے میں سنا کہ کس طرح سنّتوں بھرے حُلیوں اور مسکراتے پھول برساتے میٹھے میٹھے بولوں نے شیطان کے پجاری کو مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا بھکاری بنا دیا!داڑھی شریف اور سبز سبز عمامہ شریف سے جگماتے، پھول برساتے عاشِقان رسول کے مَدَنی حُلیوں اور ''اللہ اللہ اللہ اللہ '' کی پُر کیف صداؤں کی بَرَکتوں سے مالا مال ایک اور