شرکاء اجتماع سے ارشاد فرمایا! ابھی بارش ہوگی مگر معمولی ہوگی ،لہٰذا کوئی بھی فکر مند نہ ہو۔
مبلغِ دعوتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ سن کر میری نظر بے ساختہ آسمان کی طرف اٹھی مگر وہاں بارش کے قطعاً کوئی آثار نہ تھے اورمطلع بالکل صاف تھا۔مگر حیرت انگیز طور پربیان کے بعد دورانِ دعا اچانک ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنا شروع ہوئی اور ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی۔ ایک ولیِ کامل کی زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کی تائید میں ہونے والی بارش نے عقیدت کے پھولوں کو مزید مَہکا دیا۔
اجتماع کے اختتام پر جب ہم گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو راستے میں خوش قسمتی سے امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی گاڑی آتی دکھائی دی۔بس پھر کیا تھا، اسلامی بھائی گاڑی سے اتر کرامیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی کار کے گرد جمع ہوگئے ۔
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے کار کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے سلام ارشاد فرمایااورہماری خیریت دریافت فرمائی۔ اجتماع چونکہ بہت کامیاب ہوا تھا ، لہٰذاآپ بہت خوش تھے۔ میں نے اور دیگر اسلامی بھائیوں نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی دست بوسی کی سعادت حاصل کی۔ میرے بہنوئی بھی قریب کھڑے تمام منظر دیکھ رہے تھے مگر انہوں نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے نہ ملاقات کی اور نہ ہی کسی عقیدت کا اظہار کیا۔
ما د رزاد نا بینا اتنے میں پیدائشی نابینا اسلامی بھائی بھی کسی طرح اپنی گاڑی سے اتر کر گرتے پڑتے آپہنچے اور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی کار کے