الْوَاحِد نے ایک بیمارشخص کو پڑوسیوں میں صدقہ کرتے دیکھا تو فرمایا:”یہ تحفے موت سے پہلے کے ہیں۔“کچھ دن بعد اس شخص کاانتقال ہوگیا۔ حضرتِ سیِّدُنارَبیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع روتے ہوئے فرمانے لگے:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! مرنے کے بعد اس پر یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ اسے کسی مال نے نفع نہ دیا سوائے اس کےجو اس نے صدقہ کیا۔“
(6431)…حضرتِ سیِّدُناخَلَف بن حوشب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن ابوراشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کے ساتھ تھے، آپ نے کسی کو یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرتے سنا:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطْفَۃٍ (پ۱۷،الحج:۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے پھر پانی کی بوند سے۔
توفرمانے لگے:اگر میں گزرے ہوئے لوگوں کا مخالف ہوتا تو کبھی اپنے گھر سے نہیں نکلتا حتّٰی کہ مجھے موت آجاتی۔
(6432)…حضرتِ سیِّدُناخلف بن حوشب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن ابوراشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن مجید سناؤ۔ میں نے انہیں یہ آیت مبارکہ سنائی:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الْبَعْثِ (پ۱۷،الحج:۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو۔
اس آیت مبارکہ کو سن کر فرمانے لگے:اگر مجھے بدعت کا خوف نہ ہوتا تو میں پہاڑوں کی طرف چلا جاتا۔
(6433)…حضرتِ سیِّدُناسفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی جنازے میں اتنے لوگ نہیں دیکھےجتنےحضرتِ سیِّدُنا ربیع بن ابوراشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کے جنازےمیں دیکھے۔
دنیاوی گفتگو سے پرہیز:
(6434)…حضرتِ سیِّدُناابوعبدالملک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہم حضرتِ سیِّدُناحبیب بن ابوثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس بیٹھے تھے، حضرتِ سیِّدُناربیع بن ابوراشدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد بھی ہمارے درمیان اِحْتِباء کی حالت میں(یعنی گھٹنے کھڑے کر کے کپڑے کے ذریعے پیٹھ اور گھٹنوں کو باندھ کر)بیٹھے ہوئےتھے، اسی دوران ایک