Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
97 - 531
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا:”کیاآپ نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کچھ سنا ہے؟“انہوں نے جواب دیا کہ میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سناہے:”میزان میں سب سے پہلے اچھے اخلاق کو رکھا جائے گا۔“(1)
قیامت کی نشانی:
(6422)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت  کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک میرے اہل بیت سے میرا ہمنام ایک شخص بادشاہ نہ بن جائے(2)۔(3)

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرتِ سیِّدُنا رَبیع بن ابو راشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد
	حضرتِ سیِّدُنارَبیع بن ابوراشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدتابعی بزرگ  ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مشاہدۂ حق میں مُسْتَغْرق اور موت کی یادمیں گم رہتے۔
ہروقت موت کی فکر رہتی:
(6423)…حضرتِ سیِّدُنامالک بن مِغْوَل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا رَبیع بن ابوراشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد لوہے کے صندوق پر بیٹھے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا:”اے ابوعبداللہ!کاش آپ مسجد میں آکر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بیٹھ جاتے۔“آپ نے فرمایا:”اگر موت کی یاد لمحہ بھر میرے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مصنف ابن ابی شيبة،کتاب الادب ،باب ماذکر فی حسن الخلق وکراهية الفحش،۶/ ۹۰،حدیث:۲۴
2…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد7، صفحہ265 پر فرماتے ہیں:”ان کا نام محمد(بن عبداللہ) ہوگا، لقب مَہدی۔“مزید فرماتے ہیں:(آپ)حسنی سیِّد ہوں گے۔”آپ اس وقت ظاہر ہوں گے جب اسلام صرف حَرمین شریفین میں ہوگا اور ساری زمین کُفرِستان ہوجائے گی۔“(ماخوذاز بہارشریعت، حصہ اول، ۱/ ۱۲۴)
3…ترمذی،کتاب الفتن،باب ماجاء فی المھدی،۴/ ۹۹،حدیث:۲۲۳۷