رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےکہا:”آپ ہی میری کنیت رکھ دیجئے۔“انہوں نے آپ کی کنیت ابوعبدالرحمٰن رکھی۔
موت یادہوتوزندگی لُطف نہیں دیتی:
(6414)…حضرتِ سیِّدُناعبدالسلام بن حَرْب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناخلف بن حوشب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”جو موت کو ہر وقت یاد کرتاہے زندگی اسے لُطف نہیں دیتی۔“
(6415)…حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بن حَوشبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی رُوْحُاللہ عَلَیْہِ السَّلَام نے حواریوں سے فرمایا:اہل زمین کے لئے نمک کی حیثیت رکھنے والو!تم خراب نہ ہونا کیونکہ جب کوئی چیز خراب ہوتی ہےتو اسے نمک صحیح کرتا ہے۔ جان لو کہ تم میں دو (بُری) خصلتیں ہیں(۱)…تعجب خیز بات کے بغیر ہنسنا اور (۲)…رات سوکر گزاردینا۔
(6416)…حضرتِ سیِّدُناابن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا خلف بن حوشب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان کیا کہ حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی رُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَام نے حواریوں سے فرمایا: جس طرح بادشاہوں نے تمہاری دانائی کو چھوڑ دیا ہے اسی طرح تم بھی دنیا میں ان سے ترکِ تعلق کرلو۔
70گمشدہ بچوں کی ماں کی طرح غمگین:
(6417)…حضرتِ سیِّدُنامحمد بن بِشْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُناخلف بن حوشب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان کیا: حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قید خانے میں تھے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس حضرتِ سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام یا دوسرا کوئی فرشہ حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا:”اےپاکیزہ خوشبو اور صاف کپڑے والے فرشتے! مجھے حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں بتاؤ یایہ بتاؤ کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟“فرشتے نے عرض کی:”ان کی بینائی جاتی رہی۔“آپ نے استفسار فرمایا:”وہ کتنے غمگین ہیں؟“فرشتے نے کہا:”اس ماں کی طرح جس کے70بچے گم ہو جائیں۔“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے پوچھا:”ان کا اجر کتنا ہے؟“عرض کی:”100شہیدوں کے برابر۔“
فرمانِ مصطفٰے:اَلطُّہُوْرُشَطْرُالْاِیْمَانیعنی پاکیزگی نصف ایمان ہے۔(مسلم،ص۱۴۰،حدیث:۲۲۳)