موجود(یعنی مرنے والے) زمین کےاوپرموجود(یعنی زندہ) لوگوں سےزیادہ ہیں۔یہ سن حجاج نےانہیں قتل نہ کیا۔“
(6405)…حضرتِ سیِّدُنافُضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابن ابونعم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا گزر ایک کھنڈر سے ہوا تو آپ نے پکارا:”تمہیں کس نے ویران کیا؟“وہاں سے آواز آئی:”مجھے گزرے زمانوں کے فساد پھیلانے والوں نے ویران کیا۔“
سیِّدُناعبدالرحمٰن بن ابونُعم عَلَيْهِ الرَّحْمَہ کی مرویات
حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن ابونُعم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے متعدد صحابَۂ کرام سے احادیث روایت کی ہیں جن میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن عمر، حضرتِ سیِّدُناابوسعیدخُدری اورحضرتِ سیِّدُناابوہریرہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان شامل ہیں۔
(07-6406)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن ابونعم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں حاضر تھا کہ کسی نےپوچھا:”کیامُحرِم مکھی کو مارسکتا ہے؟“آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:عراقیو! تم مجھ سےمحرم کے مکھی مارنے کے متعلق پوچھتے ہو جبکہ تم نے نواسَۂ رسول کوشہیدکردیاحالانکہ فرمانِ مصطفٰےہے:ہُمَارَیْحَانَتَایَ مِنَ الدُّنْیَایعنی حسن وحسین دنیامیں میرےدوپھول ہیں۔(1)
جوانانِ جنت کےسردار:
(09-6408)…حضرتِ سیِّدُناابوسعیدخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تمام نبیوں کے سرور، محبوب رب داوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”حسن وحسین دوخالہ زاد یعنی عیسٰی بن مریم اور یحییٰ بن زکریا عَلَیْہِمَا السَّلَام کے علاوہ جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔“(2)
بدمذہبوں کی علامات:
(6410)…حضرتِ سیِّدُناابوسعیدخُدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس یمن سے ایسی دباغت شدہ کھال میں سونا بھیجا جس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب الحسن والحسین،۲/ ۵۴۷،حدیث:۳۷۵۳
2…ترمذی ،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ،۵/ ۴۲۶،حدیث:۳۷۹۳
سنن کبری للنسائی،کتاب المناقب،فضائل الحسن والحسین،۵/ ۵۰،حدیث:۸۱۶۹