کی حالت میں خُراسان اور اس کے اَطراف و اکناف سےگزرتےہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ مہینے میں صرف دو مرتبہ اِفطار کیا کرتے تھے۔ ایک بار کسی دوست نے آپ کو اِفطار کی دعوت دی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”میرے پاس خالص دودھ اور گھی رکھو۔“چنانچہ اس نے ایساہی کیا۔ جب آپ نے پیا تو پیٹ میں جاتے ہی (خالی ہونے کی وجہ سے)آنتوں سے آواز گونج اُٹھی۔
(6401)…حضرتِ سیِّدُنا مُغِیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن ابونُعم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پورے رمضان میں دوبار افطار کرتے تھے۔ جب ہم ان سے پوچھتے کہ ابوالحکم! آپ کس حال میں ہیں؟ تو فرماتے:”اگر ہم نیکو کار ہیں تو پرہیزگاروں کی تعظیم کی جائے گی اور بدکار ہیں تو بُروں کو مَطْعون کیا جائے گا۔“
پورےسال حالت احرام میں:
(6402)…مروی ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعبْدُالرحمٰن بن ابونعمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپورےسال احرام کی حالت میں رہتےاوریوں تلبیہ کہاکرتے:”لَبَّيْكَ لَوْ كَانَ رِيَاءً لَاَضْمَحَلَّ لَبَّيْكیعنی میں حاضرہوں اگریہ ریاکاری ہوتی تو میں تیری بارگاہ سے دور ہوتا۔“
دعا فورًا قبول ہوگئی:
(6403)…حضرت سیِّدُناابوشُبرُمَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن ابونُعم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پورے سال حالت احرام میں رہا کرتے تھے۔ آپ کو جوؤں سے تکلیف پہنچی تو آپ نے بارگاہِ خداوندی میں دعاکی۔ اسی وقت تمام جوئیں گرگئیں۔
قتل ناحق پر ظالم کو تنبیہ:
(6404)…حضرتِ سیِّدُنامُغِيرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے:حجاج بن یوسف جب مقامِ جماجم میں لوگوں کو قتل کررہا تھا اس وقت حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن ابونُعمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس کےپاس گئے اور فرمایا:”حجاج! ناحق قتل نہ کر کہ (بروزقیامت) ناحق قتل کئے جانے والےکی مدد کی جائے گی۔“حجاج نے کہا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں نے زمین کو تمہارے خون سے بھر نے کاپختہ ارادہ کرلیاہے۔“آپ نے فرمایا:”حجاج! زمین کےاندر