نیکیوں میں بڑھ جانےوالے:
(6104)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بیان کیا کہ اہل کوفہ میں سے پانچ افراد روز ہی نیکیوں میں بڑھ جاتے ہیں پھر آپ نے حضرتِ سیِّدُنا ابنِ ابجر، حضرتِ سیِّدُنا ابوحیان تیمی، حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ، حضرتِ سیِّدُنا عَمْر وبن قیس اور ابوسنان حضرتِ سیِّدُنا ضِرار بن مرّہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکا ذکر کیا۔
طالِبِ رِضائےالٰہی:
(6105)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ایک غلام نےکہا: میرے ساتھ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس چلئے کیونکہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے کوفہ میں دو ہی افراد کو رِضائے الٰہی کا طالب پایا، ایک حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ اور دوسرے حضرتِ سیِّدُنا عبدالجبار بن وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا۔
(6106)…حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن عیاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے:حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق محراب میں بیٹھے تھے اور قریب ہی حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تشریف فرما تھے، آپ نے حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق سے کچھ کہا تو دونوں نے گفتگو کرنا اور رونا شروع کردیا۔
ایک لاکھ درہم کا صدقہ:
(6107)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کابیان ہے کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علاوہ کوئی ایسا نہ دیکھا جس کے سبب اہل کوفہ سے بلائیں دور کی جاتی تھیں، اُن کو اپنے والد سے وراثت میں ایک لاکھ درہم ملے توانہوں نے وہ تمام کے تمام صدقہ کردیئے۔
(6108)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کے ذریعے شہروالوں سے بلائیں دور کی جاتی ہیں، ان کے پاس ایک لاکھ بیس ہزاردرہم تھے انہوں نے وہ سارے صدقہ کردئیے۔
سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا تقو ٰی:
(6109)…حضرتِ سیِّدُنا مسعود بن سَہل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن