فرمایا:”ان کی خدمت میں رہو۔(1)“
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:”تمہارا جہاد ان کی خدمت میں ہے۔“(2)
لیلۃ القدر سے حصہ پانے والے:
(6377)…حضرتِ سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے رمضان المبارک کےشروع سے آخر تک باجماعت نماز پڑھی اس نے لیلۃُ القدر سے اپنا حصہ پالیا۔“(3)
(6378)…حضرتِ سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی1عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو قربانی کا اونٹ ہانکتے دیکھا تو ارشاد فرمایا:”اس پرسوار ہوجاؤ۔“اس نے عرض کی:”یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔“ارشاد فرمایا:”افسوس ہے تم پر! ارے سوار ہوجاؤ(4)۔“(5)
(6379)…حضرتِ سیِّدُناابن سُحیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو فرماتے سنا:”میں غسل کرتاہوں پھر سردی ختم کرنے کے لئے زوجہ کے پاس چلا جاتا ہوں۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…غالب یہ ہے کہ اس کے ماں باپ کو اس کی خدمت کی حاجت تھی۔ وہ اکیلا بیٹا خدمت گار تھا اور جہاد اُس وقت فرضِ عین نہ تھا فرضِ کِفایہ تھا۔ ایسی صورت میں ماں باپ کی خدمت جہاد پر مقدم ہے۔ اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو جہاد مقدم ہے۔“مزید فرماتے ہیں:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی جہاد کے لیے بغیر والدین کی اجازت کے نہیں جانا چاہیے۔ اگر جہاد فرض ہو تو بہتر ہے کہ ان سے اجازت لےلے لیکن اگر وہ اجازت نہ دیں تو بھی چلاجاوے۔ اگر وہ منع کریں گے تو وہ گنہگار ہوں گے۔ یہ حکم مومن والدین کے لیے ہے۔ کافر ماں باپ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں خواہ جہاد فرض ہو یا نفل۔ خیال رہے کہ مسلمان ماں باپ کی اجازت کے بغیر کسی نفلی عبادت کے لیے نہ جاوے جیسے نفلی حج، نفلی عمرہ، زیارت وغیرہ حتّٰی کہ اگر مسلمان ماں باپ اجازت نہ دیں نفلی روزہ بھی نہ رکھے۔(مراٰۃ المناجیح، ۵/ ۴۳۰)
2…بخاری،کتاب الجھاد والسیر،باب الجھاد باذن الابوین،۲/ ۳۱۰،حدیث:۳۰۰۴ عن عبداللّٰہ بن عمرو
3…تاریخ بغداد،۴/ ۳۱۲،الرقم:۲۰۴۹،ابو الفتح احمد بن الحسن ابن الحمصی
کنزالعمال،کتاب الصوم قسم الاقوال،الباب الاول ،الفصل السابع،۸/ ۲۵۰،حدیث:۲۴۰۸۵
4…قربانی کےجانورپرمجبوراًوضرورةًسوارہوناجائز،بلاضرورت منع ہے۔(ماخوذازمراٰۃ المناجیح،۴/ ۱۶۰)
5…بخاری،کتاب الادب،باب ماجاء فی قول الرجل:ویلک،۴/ ۱۴۴،حدیث: ۶۱۵۹،۶۱۶۰