Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
81 - 531
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ طائف آیا تو لگتا تھا گویا ان میں کوئی نبی تشریف لےآیا ہو(یعنی امت میں نبی کاجومقام ومرتبہ ہوتاہےاہْلِ طائف میں آپ کوبھی ایساہی مقام حاصل تھا)۔
تکبر سے بچنے کا طریقہ:
(6363)…حضرتِ سیِّدُناابوسِنان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا حبیب بن ابوثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حضور اپنا سر جھکایا وہ تکبر سے محفوظ ہوگیا۔
(6364)…حضرتِ سیِّدُناابوحَیان تیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا حبیب بن ابوثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:کہاجاتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے گھر کی حاضری دو کیونکہ  اس جیسا کوئی گھر نہیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے زیادہ حق کو جاننے والا کوئی نہیں ہے۔
(6365)…حضرتِ سیِّدُناابوعَلاء کاملرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا حبیب بن ابوثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے علمائے کرام پر ایک لاکھ درہم یا دینار خرچ کئے۔
ملاقات کا طریقہ:
(6366)…(الف)حضرتِ سیِّدُنااسماعیل بن سالِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا حبیب بن ابوثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”سنت یہ ہےکہ جب کوئی ایک ہی وقت میں چند افراد سے بات کرے تو سب کی طرف برابر توجہ رکھے صرف ایک شخص کو اپنی توجہ کامر کز نہ بنا لے۔“
طویل سجدے:
(6366)…(ب)حضرتِ سیِّدُناابوبکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا حبیب بن ابوثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سجدہ کرتے دیکھا ہے، اگر تم ان کے طویل سجدے دیکھ لیتے تو کہہ اٹھتے: یہ وفات پاچکے  ہیں۔
اچھی اچھی  نیتوں کی  ترغیب:
(6367)…(الف)حضرتِ سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا زُبید ایامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”مجھے ہر چیز حتّٰی کہ کھانے پینے میں بھی اچھی نیت شامل کرنا پسند ہے۔“