عَنِ الْیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیۡدٌ ﴿۱۷﴾مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾ (پ۲۶،قٓ:۱۷، ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ایک دہنے بیٹھا اور ایک بائیں کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
کیا تمہیں حیا نہیں آتی کہ تم میں سےکسی کا نامَۂ اعمال دن کے آخری حصے میں کھولا جائے اور اس میں دن کا اکثر حصہ ایسا گزرا ہو جس میں اس کی دنیاوی کوئی غرض ہو نہ آخرت کی۔
حضرتِ سیِّدُناامام ابوبکربن شیبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں آخری الفاظ یوں ہیں:اس کے نامَۂ اعمال میں دن کا ابتدائی حصہ زیادہ تَر اُس چیز سے پُر ہو جس کا تعلق نہ اس کے دین سے ہے نہ دنیا سے۔
دونصیحت آموزباتیں:
(6101)…حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اشعث اور حضرتِ سیِّدُنا فُضیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سُوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:دو باتیں ایسی ہیں کہ اگر ہمیں صرف ان کے سبب عذاب دیا جائے تو ہم اس کے مستحق ہیں(۱)…کسی کودنیامیں زیادہ دیا جائے تو وہ خوش ہوجاتا ہے جبکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ دین میں اس کی مثل زیادہ دیئے جانے پر خوش ہوا ہو (۲)…کسی کی دنیا میں کمی کی جائے تو وہ غمگين ہوجاتا ہے حالانکہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ وہ اپنے دین میں اتنی ہی کمی ہونے پرغمگين ہوا ہو۔
بکثرت آنسو بہانے والے:
(6102)…حضرتِ سیِّدُنا عبْدُالرحمٰن بن محمدمُحارِبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ جب جمعہ کا دن آتا تو حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرتِ سیِّدُنا ضِرار بن مُرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک دوسرے کو تلاش کرتے، جب دونوں ملتے تو بیٹھ کر روتے رہتے۔
(6103)…جعفرالاحمرکابیان ہے کہ ہمارے چار اصحاب بہت زیادہ رویا کرتے تھے:(۱)…حضرت سیِّدُنا مُطرِّف بن طَریف (۲)…حضرت سیِّدُنامحمدبن سوقہ(۳)…حضرت سیِّدُناعبْدُالملِک بن اَبجراور(۴)…ابوسِنان حضرت سیِّدُناضِرار بن مرہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی۔