سے ارشاد فرمایا:تمہارا شوہر دنیا میں سردار ہے اور آخرت میں مُقَرَّبین میں سے ہے۔ اے فاطمہ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب علی سے تمہارا نکاح کرنےکا ارادہ فرمایا تو جبرئیل امین کو چوتھے آسمان پر کھڑے ہونے کا حکم دیا، ملائکہ نے صفیں بنالیں پھر جبریل امین نے ان کے سامنے (نکاح کا) خطبہ پڑھا پھر میں نے تمہارا نکاح علی سے کردیا۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنتی درختوں کو حکم دیا تو انہوں نے زیور اور جوڑے اٹھالئے پھر دوبارہ حکم دیا تو انہوں نے وہ زیور اور جوڑے ملائکہ پر نچھاور کردئیے پس جس نے زیادہ حاصل کیاوہ قیامت تک اس پر فخر کرے گا۔
حضرتِ سیِّدَتُنااُم سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا دیگر عورتوں پر فخر کیا کرتی تھیں کیونکہ وہ واحد خاتون ہیں جن کے نکاح کا خطبہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے پڑھایا تھا۔(1)
بد ترین لوگ:
(6357)…حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”بدترین لوگ دو منہ والے ہیں۔“(2)حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اس سے مراد وہ شخص ہے جو ایک کے سامنے کچھ کہے اور دوسرے کے سامنے کچھ اور۔
شیطان کو رُلانے والا عمل:
(6358)…حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جب ابنِ آدم آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے(3) تو شیطان روتا ہوا دور ہَٹ جاتا ہے اور کہتا ہے:ہائے میری خرابی! ابنِ آدم کو سجدے کا حکم ہوا تو وہ سجدہ کر کے جنتی ہو گیا اور مجھے سجدے کا حکم ہوا تو میں انکار کر کے جہنمی ہو گیا۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تاریخ ابن عساکر،۴۲/ ۱۲۸،الرقم:۴۹۳۳،علی بن ابی طالب
2…بخاری،کتاب الادب،باب ماقیل فی ذی الوجھین،۴/ ۱۱۵،حدیث:۶۰۵۸
3…سجدہ تلاوت اور اس کے احکام جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارشریعت، جلد1، حصہ4، صفحہ726تا739 نیزشیخ طریقت،امیراہلسنّت،بانِیِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے رسالے”تلاوت کی فضیلت“ کا مطالعہ فرمالیجئے۔
4…مسلم،کتاب الایمان،باب بیان اطلاق اسم الکفرعلی من ترک الصلاة،ص۵۶،حدیث:۸۱