Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
76 - 531
اور اپنے حق کا سوال اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے کرنا۔“(1)
ہر بات لکھی جاتی ہے:
(6346)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ خلق کے رہبر، محبوب ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب دونوں محافظ فرشتے(یعنی کراماً کاتبین) کسی بندے یا بندی کے پاس (اعمال لکھنے) آتے ہیں تو ان کے پاس مُہر لگی کتاب ہوتی  ہے۔ بندہ یا بندی جو گفتگو کرتے ہیں وہ لکھ لیتے ہیں۔ جب وہ اٹھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ایک فرشتہ دوسرے سے کہتا ہے:مہر لگی کتاب کھولو جو تمہارے پاس ہے۔ وہ اسے کھولتا ہے تو اس میں وہی کچھ لکھا ہوتا ہے جو انہوں نے لکھا ہوتا ہے۔ اس فرمانِ عالی کا یہی مطلب ہے:
مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾ (پ۲۶،قٓ:۱۸)	
ترجمۂ کنز الایمان:کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔(2)
اُمَّتی کسی نبی سے افضل نہیں:
(6347)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیوں کے سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” کسی کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی عَلَیْہِ السَّلَام سے افضل ہوں۔(3)“(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب الفتن،باب قول النبی ” سترون بعدی امورْا تنکرونھا“،۴/ ۴۲۹،  حدیث:۷۰۵۲
2…تفسیرقرطبی،پ۲۶،سورة قٓ،تحت الاٰية:۱۸، ۹/  ۱۰
3…بخاری،کتاب احادیث الانبیاء،باب ان قارون کان من قوم موسی،۲/ ۴۴۶،حدیث:۳۴۱۶
4…یعنی کوئی اپنے کو حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام سے افضل نہ کہے کیونکہ کوئی ولی خواہ کسی درجے کا ہو نبی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتا، نبی کی شان تو بڑی ہے۔ تمام جہان کے اولیا مل کر صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچتے اور اگر ”میں“سے مراد حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے دوسرے نبیوں پر ایسی بزرگی نہ دو جس سے دوسرے نبی کی توہین ہو جائے یا جس سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آئے یا نفس نبوت میں ترجیح نہ دو کہ کسی کو اصلی نبی مانو کسی کو ظِلّی، بُروزی عارضی نبی لہٰذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے کہ” تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍۘ (پ۳، البقرة:۲۵۳، یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک…☜