جہنمی کتے:
(6343)…(الف)حضرتِ سیِّدُناابن ابی اوفیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان کیا کہ میں نے خارجیوں(1) کے متعلق سرور کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا:”یہ جہنم کے کتے ہیں۔“(2)
(6343)…(ب)حضرتِ سیِّدُناابن ابی اوفیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رویت ہے کہ نبیوں کے سردار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”خارجی جہنم کے کتے ہیں۔“(3)
شرک کے سوا ہرگناہ کی معافی:
(6344)…حضرتِ سیِّدُناابوذرغفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ مُصْطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ جو ایک نیکی کرے تو اس کے لئے اس جیسی دس یا اس سے بھی زیادہ ہیں اور جو ایک گناہ کرے تو برائی کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے یا اسے بخش دوں گا اور جو زمین بھر گناہ کرلے پھر میری بارگاہ میں اس طرح آئے کہ اس نے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں اس کے ساتھ اتنی ہی بخشش کا معاملہ کروں گا۔(4)
مستقبل کی خبر:
(6345)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”عنقریب تم میرے بعد (حکمرانوں کی)ناجائز ترجیح اور ایسے معاملات دیکھو گے جن کی تمہیں خبر نہ ہوگی۔“ہم نے عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ ہمیں کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں؟“ ارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کا جو حق رکھا ہے وہ اُنہیں دےدینا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…وہ گمراہ فرقہ جوجنگِ صفَّین کے موقع پرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا اس وجہ سے مخالف ہو گیا تھا کہ انہوں نے حضرت سیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے جنگ بندی کے لیے ثالثی قبول کر لی تھی۔
2…مسند امام احمد،مسند الکوفیین،بقية حدیث عبد الله بن ابی اوفی،۷/ ۵۱،حدیث:۱۹۱۵۲
3…ابن ماجہ،المقدمة،باب فی ذکر الخوارج،۱/ ۱۱۲،حدیث:۱۷۳
4…مسند امام احمد،مسند الانصار،حدیث ابی ذر الغفاری،۸/ ۸۳،حدیث:۲۱۴۱۸