Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
72 - 531
(6334)…حضرتِ سیِّدُنا عمرحَنْظَلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئے، سلام کیا، ابھی گفتگو شروع ہی کی تھی کہ حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے  خیریت دریافت کرتے ہوئے پوچھا:” کاروبار کیسا چل رہا ہے؟ معلوم ہوا ہے کہ خوب عروج پر ہے۔“حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کہنے لگے:”ابومحمد!آپ خوش طبعی کا کوئی موقع ہاتھ سےجانےنہیں دیتے۔“پھر انہوں نے پوچھا:”کیسے آنا ہوا؟“حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے کہا:”مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ایک روایت بیان کرتے ہوئے ہمیشہ ایک بات ذکر کرتے ہیں۔“پوچھا:”وہ کیاہے؟“کہنے لگے:”آپ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مختار ثَقَفی(کےاعلانِ نبوت سےپہلےاس)کے تحفے قبول کیا کرتے تھے۔“حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےپوچھا:”کیاآپ نےاس سےآگےنہیں سنا؟“انہوں نےکہا:”نہیں۔“تو آپ نے کہا:”حبیب بن ابوثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے مختار کے تحائف حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن عباس اورحضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے پاس آتےدیکھے ہیں اور  یہ حضرات قبول کرلیا کرتے تھے۔“
(6335)…حضرتِ سیِّدُنا حارث بن ابواُسامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا حَفْص بن ابوحَفْص ابّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار سے پوچھا:”آپ نے حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا ہے؟“انہوں نے کہا:”ہاں!اور میں نے انہیں یہ بھی کہتے سنا ہے کہ بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ علم یا قرآن کے ذریعے کسی قوم کو بلندی عطا فرماتا ہے اور کسی کوپست کرتا ہےاور میں اس قوم سے ہوں جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بلند ی عطا فرمائی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں گردن میں کشکول لٹکائے کوفہ کی گلیوں میں چکر لگا رہا ہوتا۔“
بزرگانِ دین کا اندازِ خوش طبعی:
(6336)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت شَبِیب بن شَیبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور ان کے رُفَقا حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئےاوردروازے کے پاس کھڑے ہوکر آواز لگانے لگے:”سُلیمان!باہر آیئے۔“آپ نے اندر ہی سے پوچھا:”تم کون ہو؟“انہوں نے کہا:”ہم وہ ہیں جو آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں۔“آپ نے مزاحاً جواب دیا:”اچھا وہ جن میں سے اکثر بےعقل ہیں۔“