Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
71 - 531
ساربان کی پٹائی:
(6332)…حضرتِ سیِّدُناامام وَکِیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ ِ الۡبَدِیۡع بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے (سفر حج پر روانہ ہوتے وقت) ایک دیہاتی کو سامان اٹھانے کے لئے اُجرت پر رکھا۔ کچھ لوگ اس امید پر آپ کے ساتھ چلے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے احادیث سنیں۔ جب آپ احرام باندھ کر وہاں سے روانہ ہوئے تو ساربان (اونٹوں کو چَرانے والا) لوگوں کو تکلیف پہنچا تا رہا، ایک دن وہ سب کسی خیمےکے اندر اکھٹے تھے اتنے میں وہ ساربان آ گیا، حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کھڑے ہوئے، تہبند کَسا اور خیمے کی لکڑی لے کر اس کی طرف بڑھے اور مارمار کر اس کا سر پھاڑدیا۔ لوگوں نے عرض کی: ابومحمد! آپ نے احرام کی حالت میں اس کاسرکیوں پھاڑا؟ فرمایا: ساربان کو مارنا بھی احرام کی ایک سنّت ہے(1)۔
حبشی کے مذاق کا جواب:
(6333)…حضرتِ سیِّدُنا مَندل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:” کیا آپ کو کبھی حبشیوں سے اذیت پہنچی ہے؟“آپ نے فرمایا:ہاں!ایک مرتبہ میں حبشیوں کے علاقے میں تھا، نہر کے پاس مجھے ایک حبشی ملا اور کہنے لگا:”مجھے سوار کرلوتاکہ میں بھی نہر پار کرلوں۔“جب وہ میری کمر پربیٹھ گیا تو اس نے(سواری پر سوار ہونے کی)یہ دعا پڑھی:”سُبْحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیۡن یعنی پاکی ہے اُسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارےقابوکی نہ تھی۔“جب میں نہر کےدرمیان میں پہنچا تو میں نے یہ دعا پڑھی:”اَللّٰهُمَّ انۡزِلْنِیۡ مُنۡزَلًا مُّبَارَکًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الْمُنۡزِلِیۡن یعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! مجھے برکت والی جگہ اُتار اور تو سب سے بہتر اُتارنےوالاہے۔“اوراسے نہر میں پھینک کر بھاگ کھڑا ہوا اور وہ کپڑوں سمیت غوطے کھانے لگا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اس مقام پر آپ کا قول ”اِنَّ مِنۡ سُنَّةِ الۡاِحۡرَامِ ضَرۡبُ الۡجَمَّال“ آیا ہے جبکہ دیگر کتب میں آپ کا قول یوں بھی ملتا ہے”تَمَامُ الۡحَجِّ ضَرْبُ الۡجَمَّال“سیِّدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنفرماتےہیں:یُحِبُّنِیْ اَنْ یُّحْمَلَ عَلَی الْاِضَافَۃِ لِلْفَاعِلِ اَیْ مِنْ تَمَامِ الْحَجِّ الصَّبْرُعَلٰی جَفَاءِ جِیْرَانِ الْحَرَمِ الْمُحْتَرَمِ اَعْنِی اَہْلَ الْبَدْوِوَحَتَّی الضَّرْبِ اِنْ صَدَرَمِنْہُمْ۱۲یعنی میرےنزدیک پسندیدہ بات یہ ہےکہ اسے اس پرمحمول کیاجائے کہ یہاں فاعل کی طرف اضافہ ہے یعنی اہْلِ حرم کےدیہاتیوں کی زیادتی پرصبرکرناحج کے پوراہونے سےہے اگرچہ ان کی طرف سےمارپڑے۔(حاشیہ مقاصدالحسنہ)