سیِّدُنا امام اَعمش کا مقام:
(6329)…حضرتِ سیِّدُناابوبکربن عَیّاشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا:”کیا آپ کے اِرد گرد موجود لوگ غلام ہیں؟“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”خاموش!دین کے معاملے میں یہ تمہارے سردار ہیں۔“
محدث بننے کا سبب:
(6330)…حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا کہ حضرتِ سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روزانہ میری ملاقات ہوتی تھی، ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”میں نے تم سے کوئی حدیث نہیں سنی، میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں رہا ہوں پھر حَجاج کا زمانہ بھی دیکھا حتّٰی کہ اس نے تمہیں حاکم بنا دیا۔“آپ فرماتے ہیں کہ میں ان کی بات سے شرمندہ ہوا پھر ایک شخص سے حدیث روایت کرنے لگا۔
نمازیوں کو مشقت میں نہ ڈالو:
(6331)…حضرتِ سیِّدُنامَندل بن علیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک روز صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسجد ِبنی اَسَد میں آئے تو مؤذن اقامت کہہ چکا تھا۔ آپ بھی نماز میں شامل ہو گئے امام نے پہلی رکعت میں سورۂ بقرہ اور دوسری میں سورۂ اٰلِ عمران تلاوت کی۔ جب امام نے نماز مکمل کی تو آپ نے فرمایا: تمہیں خوفِ خدا نہیں ہے! کیاتم نے حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ فرمان نہیں سنا:”امام کو چاہئے کہ مختصر نماز پڑھائے کیونکہ اس کے پیچھے بوڑھے، کمزور اور ضرورت وحجت والے ہوتے ہیں۔“اس امام نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے:
وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ﴿ۙ۴۵﴾ (پ۱،البقرة:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: میں تمہارے پاس دل سے جھکنے والوں ہی کا پیغام لایا ہوں کہ تم مَشَقَّت میں ڈالنے والے ہو۔