حضرتِ سیِّدُنامُحَمَّد بن سُوْقَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُناابُوعبدُاللہمحمدبن سُوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی تابعین کرام میں سےہيں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبہت زیادہ خوفِ خدا والے اور نرمی میں سبقت كرنے والے ہیں، معرفت کے ساتھ آپ کا خوف بڑھتا اور نرمی کے ساتھ آپ کی سبقت بڑھتی تھی۔
عُلَمائےتَصَوُّف فرماتےہیں:خوفِ خدا زیادہ ہونےاورنرمی میں سبقت کرنے کا نام تَصَوُّف ہے۔
خوفِ خدا والے کی دوصفات:
(6099)…حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا:بےشک خوفِ خدا رکھنے والا مومن موٹا نہیں ہوتا(1)اور (خوف خدا کے سبب) اس کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے۔
تین کے علاوہ ہر بات فضول:
(1006)…حضرتِ سیِّدُنا یعلیٰ بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے نفع پہنچایا امید ہے تمہیں بھی نفع پہنچائے۔ ہم لوگ حضرتِ سیِّدُنا عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:تم سے پہلے کے لوگ فضول بات کو نا پسندکرتے اور تین باتوں کےعلاوہ ہربات کو فضول شمار کرتے تھے(۱)…قرآنِ کریم کی تلاوت (۲)…نیکی کا حکم دینا یا برائی سے منع کرنا اور (۳)…اپنی حاجت بیان کرنا جہاں بغیر بولے حاجت پوری نہ ہو۔ کیاتم ان فرامین باری تعالیٰ کے بارے میں نہیں جانتے؟
وَ اِنَّ عَلَیۡکُمْ لَحٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾کِرَامًا کٰتِبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾(پ۳۰،الانفطار:۱۰، ۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک تم پر کچھ نگہبان ہیں معزّز لکھنے والے۔ اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کیونکہ موٹاپا،غفلت اورزیادہ کھانےپردلالت کرتاہےاوریہ بات قبیح اوربُری ہےالبتہ اگرکوئی موٹاہوتواس کےبارے میں یہ گمان ہرگزنہ رکھاجائےکہ یہ خوفِ خدارکھنےوالانہیں۔(علمیہ)