Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
68 - 531
 تَعَالٰی عَلَیْہ مرض الموت میں مبتلاتھے، میں نے عرض کی:”طبیب کو بلاؤں؟“فرمایا:”میں اس کا کیا کروں گا، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم! اگر میری روح میرے ہاتھ میں ہوتی تو میں اسے جھاڑیوں میں پھینک دیتا۔“مزید فرمایا:”جب میں مر جاؤں تو کسی کو مت بتانا اور مجھے لے جا کر قبر میں ڈال دینا۔“
(6321)…حضرتِ سیِّدُناابوبکربن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اُلٹی قمیص پہنے دیکھا اور وہ  کہہ رہے تھے:”دیوانے لوگ جسم پر موٹا لباس ڈالتے ہیں۔“
مومن بندوں کی حفاظت: 
(6322)…حضرتِ سیِّدُناامام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک بادشاہ اپنے محل سے تفریح گاہ کی طرف نکلا۔ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ اس نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا:”اگر تو نے بارش نہ روکی تو میں (تیری  مخلوق پر ظلم  کرکے) تجھے ایذا دوں گا۔“بارش فوراً رک گئی۔ کسی نے پوچھا:”تم کیا کرنے والے تھے؟“بادشاہ نے کہا:”میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں کسی مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے مومن بندوں  کی حفاظت فرماتا ہے۔
بیماری کیوں پیدا کی گئی؟
(6323)…حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: پہلے ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام لوگوں کونظر آتے تھے۔ جب وہ کسی کی روح قبض کرنے آتے تو اس سے فرماتے:”اپنی حاجت پوری کر لو کیونکہ میں تمہاری روح قبض کرنے والا ہوں۔“ بارگاہِ الٰہی میں شکایت کی گئی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بیماری اُتاردی اور انہیں پوشیدہ کردیا۔
رحْمتِ خداوندی:
(6324)…حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل کا ایک شخص غار میں عبادت کیا کرتا تھا۔ ابلیس نے اس کے پاس اپنے چیلے کو بھیجا۔ وہ غار میں آیا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگا۔ عابد نے اس چیلے سے پوچھا:”توکون ہے؟“اس نےکہا:”میں تمہارے ساتھ رہ کر عبادت کرنا چاہتا ہوں۔“پھر اس نےکہا:”میں تمہیں اس سے بہتر عمل نہ بتاؤں جو ہم کر رہے ہیں؟“عابد نے پوچھا:” وہ کونسا عمل ہے؟“اس