اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں: حضرت سیِّدُناابراہیم نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیمجھ سے خوش طبعی کیا کرتے تھے، ایک دفعہ وہ میری عیادت کے لئے آئے تو کہنے لگے:آپ تو ایسے ہوگئے جیسے کوئی اپنے گھر میں بیٹھ کر یہ سمجھتا ہے کہ دوشہروں میں بھی اس سے بڑھ کر کوئی نہیں۔
(6316)…حضرتِ سیِّدُناامام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”ہم جنازے میں جاتے تو تمام حاضرین اس قدر غمزدہ ہوتے کہ معلوم نہ ہوپاتا کس سے تعزیت کریں؟“
ظالم حکمران کیوں مسلط ہوتے ہیں؟
(6317)…حضرتِ سیِّدُنامنصوربن ابوالاَسود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: آپ نےمفسرین سے اس فرمانِ خداوندی کی کیا تفسیر سنی ہے؟
وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیۡ بَعْضَ الظّٰلِمِیۡنَ بَعْضًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾٪ (پ۸،انعام:۱۲۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پرمسلّط کرتےہیں بدلہ ان کےکئےکا۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:مفسرین فرماتے ہیں کہ جب لوگ بُرے کام کرنے لگتے ہیں تو ان پر ظالم حکمران مُقرّر کردیے جاتے ہیں۔
(6318)…حضرتِ سیِّدُنا امام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:وسوسہ اعمال کی قبولیت کی نشانی ہے،اہل کتاب کےاعمال آسمان کی طرف بلند(قبول)نہیں ہوتےکیونکہ وہ وسوسےکونہیں جانتے۔
دنیاوی زندگی کی مثال:
(6319)…حضرتِ سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس آیت مبارکہ”وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتٰعُ (پ۴،اٰل عمران:۱۸۵، اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا)“کی تفسیر میں فرمایا:جیسے چروا ہے کا زاد راہ۔
سیِّدُنا امام اَعمش کی عاجزی:
(6320)…حضرتِ سیِّدُناابوبکربن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ