میرے نزدیک بیت الخلاء کی طرح ہے، جب مجھے حاجت ہوتی ہے اس کی طرف چلا جاتاہوں۔
حدیث کے لئے سفر:
(6306)…حضرتِ سیِّدُنامَعْمَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس چند احادیث لےکر آیا تاکہ ان سے ان کی اسناد(1) کے بارے میں پوچھوں۔ ان کے پہلو میں قبیلہ بنی مخزوم کا ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سوال کیا:”ابومحمد! یہ حدیث کیسی ہے؟“آپ نے فرمایا:”اس کی سَند درست ہے۔“میں نے پوچھا:”یہ حدیث کیسی ہے؟“فرمایا:”اس کی سَند درست نہیں۔“اس مَخْزومی شخص نے کہا:”یہ آپ کے پاس سفر کر کے آئے ہیں (ان کی رعایت فرمائیں)۔“آپ نے فرمایا:”جانتا ہوں لیکن یہ اپنے ہم پلہ سے مقابلہ کرتے ہیں(یعنی اسناد کے بارے میں تفصیلی کلام کروں تو بحث شروع ہوجائے)۔“
باوضو مَرنے کی تمنا:
(6307)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں:ہمیں کچھ لوگوں نے حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق بتایا کہ ایک شب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیدار ہوئے، قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد جب وضو کے لئے پانی نہ پایا تو دیوار سے تیمم کرکے سو گئے۔ جب آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: مجھے بےوضو مَر جانے کا خوف تھا۔
حضرتِ سیِّدُناعبدالرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا مَعْمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی اکثر ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
70سال تک تکبیراولیٰ فوت نہ ہوئی:
(6308)…حضرتِ سیِّدُنا وَکِیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع فرماتے ہیں کہ تقریباً70سال سے حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی۔ میں تقریباً60سال سے ان کے پاس حاضر ہورہا ہوں، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ان کی ایک رکعت بھی چھوٹی ہو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اَسناد:راویوں کا وہ سلسلہ جو متن تک لے جائے۔(نزھة النظر فی توضیح نخبة الفکر، ص۱۰۶)