Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
64 - 531
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی:”فلاں شرابی سے میری سفارش کردیں۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم! میں نے کبھی اس سے بات نہیں کی۔“اس نے عرض کی:”اس شرابی نے مجھ سے ناجائز وصولی کا مطالبہ کیا ہے، مجھے امید ہے کہ آپ اس سے بات کریں گے تو وہ مان جائے گا۔“جب آپ اس شرابی کے پاس گئے تو دیکھا کہ لوگوں کے سامنے شراب رکھی ہے اور وہ پی رہے ہیں۔ شرابی نے اپنے دوستوں سے کہا:”میں انہیں واپس جانے سے پہلے ضرور شراب پلاؤں گا۔“پھر ان لوگوں نے شراب ایک طرف رکھ دی۔ آپ نے اندر آکر اس سے بات کی تو اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور رجسٹر منگوا کر اس شحص کے ذمہ جو کچھ تھا اسے مٹادیا۔ پھر اس نے آپ کو کھانے کی دعوت دی تو آپ نے قبول فرمالی۔ کھانے کے دوران حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”پانی پلاؤ۔“اس نے لڑکے سے نبیذ لانے کا کہہ دیا۔ آپ نے فرمایا:”مجھے پانی پلاؤ۔“جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پانی کا اصرار کیا تو اس نے کہا کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ نہیں فرمایا:”جب تم اپنے بھائی کے ہاں جاؤ تو وہ جو کھلائے کھالو اور جو پلائے پی لو۔“حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”تم ان میں سے نہیں ہو(کہ تمہاری پیش کردہ ہرچیز لےلی جائے)۔“پھر پانی پیا اور وہاں سے چلے گئے۔
حدیث کا ادب:
(6304)…حضرتِ سیِّدُناعیسٰی بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ امیر عیسٰی بن موسٰی نے حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک ہزار درہم اور کاغذ بھیجے تاکہ وہ حدیث لکھ کر دیں۔ آپ نے درہم رکھ لئے اورایک کاغذ پر بِسۡمِ اللہ اور سورۂ اخلاص لکھ کر لپیٹ کر اس کی جانب روانہ کر دیا۔ جب اس نے کاغذ کو دیکھا تو آپ کی والدہ کے بارے میں ایک نازیبا لفظ لکھ کر یہ مکتوب لکھا:”کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں کتابُ اللہ کو اچھی طرح نہیں سمجھتا؟“حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے جوابی مکتوب لکھا:”تم کیا مجھے حدیث بیچنے والا سمجھتے ہو؟“آپ نے پیسے اپنے پاس رکھ لئے اور حدیث لکھ کر نہ دی۔
(6305)…حضرتِ سیِّدُناابواُسامہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یَقْطین سردار کے بھائی کے پاس جانے کی وجہ سے ملامت کی گئی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: وہ