لوگوں میں حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ میں نے مالداروں اور حکمرانوں کو اُن کی بارگاہ میں جتنا بےوَقْعَت دیکھا اتنا کسی اور مجلس میں نہیں دیکھا حالانکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی۔“
(6299)…حضرتِ سیِّدُناقاسم بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتےہیں: حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی احادیث کو حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں۔
محدّث کا احترام:
(6300)…حضرتِ سیِّدُناضِرار بن صُرَد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا شریک بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک بار فرمایا:”علم(حديث) توبس اہل عرب یا مملکت کے معزِّزین کے پاس ہے۔“مجلس میں موجود ایک شخص نےکہا:”امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس کونسی شرافت ہے؟“حضرتِ سیِّدُنا شریک بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”ان کی شرافت کا اندازہ اس بات سے کرلو کہ اگر تم حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو گوشت اٹھائے دیکھو اور ان کی دائیں جانب حضرت سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور بائیں جانب میں ہوں تو ہم دونوں اُن سے گوشت لینے کے لئے سبقت کرنے کی کوشش کررہے ہوں گے۔“
سب سے بڑی خیانت:
(6301)…حضرتِ سیِّدُنا عُبَـیْدُاللہ بن موسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ امانت خائن کے سپرد کر دی جائے اور عہد شکنی یہ ہے کہ اس سے وفا کی جائے جو وعدے کی پاسداری نہ کرتا ہو۔“
(6302)…حضرتِ سیِّدُناجَریر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے لوگوں سے امید لگانے کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا:”جو ہمیں خود سے بڑا گمان کرے ہمیں اس سے امید نہیں لگانی چاہئے۔“
مظلوم کی فریادرسی:
(6303)…حضرتِ سیِّدُناابن نُمیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش