Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
62 - 531
میں دھوپ میں بیٹھ جاتے اور ہاتھوں کو آنکھوں پر رکھ کرحدیث یادکرتے اور مسلسل آنکھوں کو ملتے رہتے حتّٰی کہ یاد آجاتی۔ پھر سوال کے بارے میں دوبارہ پوچھتے اور جواب دیتے۔
علم کی فضیلت:
(6294)…حضرتِ سیِّدُناسفیان بن عُیَینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو الٹا کوٹ اورتہبندپہنے دیکھا، اس کے دھاگے قدموں پر لٹک رہے تھے اور آپ لوگوں سے فرمارہے تھے:”تمہارا کیا خیال ہے اگر میں علم حاصل نہ کرتا تو میرے پاس کون آ تا! اگر میں سبزی فروش ہوتا تو لوگ خرید وفرخت کے معاملے میں بھی مجھ سے دور ہی رہتے۔“
(6295)…حضرتِ سیِّدُنامحمد بن عبید طَنافِسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ گھنی داڑھی والا ایک سادہ آدمی حضرتِ سیِّدُناامام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا اور نماز کا آسان سا مسٔلہ پوچھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہماری طرف متوجہ ہوکر خوش طبعی کرتے ہوئے فرمایا:”اسے دیکھو،داڑھی سےلگتاہےکہ اس کو چارہزار حدیثیں یاد ہیں جبکہ اس کا سوال مدرسے کے  بچوں کی طرح ہے۔“
سیِّدُنا امام اعمش کی حدیث دانی:
(6296)…حضرتِ سیِّدُنا ابوداؤد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت حبیب بن ابوثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے  کہا:”اہل حجاز اور اہل مکہ سب سے زیادہ مسائل شرعیہ جانتے ہیں۔“میں نے کہا:”آپ ان کی طرف سے ہوجائیے میں اپنے اصحاب (علمائے کوفہ) کی طرف سے ہوجاتا ہوں، آپ جوبھی مسئلہ بیان کریں گے میں اس سے متعلق ایک حدیث سناؤں گا۔“
(6297)…حضرتِ سیِّدُنا مبشر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا:”علم سوال کرنے سے آتا ہے۔“
مال داروں  سے اجتناب:
(6298)…حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی بن یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”میں نے گزشتہ  اور موجودہ زمانے کے