حضرتِ سیِّدُنا سُلَيْمان بن مہران اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرت سیِّدُنا سلیمان بن مہران اَعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تابعی بزرگ ہیں۔آپ پیشوا، قاریِ قرآن، راویِ حدیث، مُفتیِ وقت، بڑے عبادت گزار، لمبی امیدیں نہ باندھنے والے، تنہائی میں رب کی عبادت کرنے والے اور مخلوق خدا سے خوش طبعی فرمانے اور ان کادل بہلانے والے تھے۔
عُلَمائےتصوُّف فرماتےہیں:حق کی حمایت اور مخلوق سے خوش طبعی کرنے کا نام تَصَوُّف ہے۔
درسِ قرآن:
(6290)…حضرتِ سیِّدُناامام سلیمان اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے قرآن مجید حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن وَثّاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب سے پڑھا، انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا عَلقمہ یا حضرتِ سیِّدُنا مَسْروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے پڑھا، انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اور آپ نے رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قرآن پاک پڑھا ۔
(6291)…حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن وَثّاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب کو قرآن سنایا کرتے تھے، میں بھی ان کی مجلس میں حاضر ہوتا تھا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو لوگوں نے مجھے گھیرلیا۔
(6292)…حضرتِ سیِّدُناحسین بن واقدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُناامام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے قراءت کی اور ان سے پوچھا:”میری قراءت کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟“فرمایا:”تم جیسے کسی خشک مزاج شخص نے میرے پاس زیادہ قراءت نہیں کی۔“
دھوپ میں بیٹھ کر حدیث یاد کرتے:
(6293)…حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”ہمارےاوربدری صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے درمیان ایک ہی واسطہ ہے۔“حضرتِ سیِّدُنا جریر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَبِیْر بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب باہر نکلتے اور ان سے کسی حدیث کے متعلق پوچھا جاتا تو یاد نہ آنے کی صورت