قرب الٰہی پانے کا اہم ذریعہ:
(6287)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ تاجدارِ انبیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت موسٰی کَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی:”تمہارے لئے میرا قرب پانے کے لئے میرے فیصلے پر راضی رہنے سے بڑھ کر پسندیدہ کوئی شے نہیں اور تکبر کے سبب کوئی ایسا عمل نہ کرلینا جو تمہاری نیکیوں کو برباد کر دے۔ اے موسٰی! (لوگوں سے فرمادو)دنیا داروں کے سامنے عاجزی نہ کرنا ورنہ میں ناراض ہوجاؤں گا اور ان کی دنیا کی وجہ سے دین کو ہلکا نہ کرنا ورنہ میں تم پر اپنی رحمت کے دروازے بند کردوں گا۔ اے موسٰی! تم نادم گناہ گاروں سے فرمادو کہ تمہیں خوشخبری ہو اور عمل کر کے خودپسندی میں مبتلا ہونے والوں سے فرمادوکہ تم خسارے میں ہو۔“(1)
(6288)…حضرتِ سیِّدُنا سَلَمہ بن نُعیم اَشجَعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہو گا اگرچہ چوری کی ہو، اگرچہ زنا کیا ہو۔“(2)
عذاب سےنجات:
(6289)…حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جس نے ” لَا اِلٰهَ اِلَّا الله“کہا اسے بالآخر گناہوں کے عذاب سے نجات مل ہی جائے گی۔(3)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… جلد3،حصہ 17، صفحہ694 تا743 کا مطالعہ کیجئے۔
اس حدیث کامعنیٰ یہ ہے کہ راہن ومرتہن ایک دوسرے کی اجازت سےمرہون سےنفع اٹھاسکتےہیں۔
(المبسوط للسرخسی،کتاب الرھن،باب رھن الحیوان،۲۱/ ۱۰۴)
…فردوس الاخبار،۱/ ۸۷،حدیث:۵۰۸
2…بخاری،کتاب التوحید،باب کلام الرب مع جبریل...الخ،۴/ ۵۷۰،حدیث:۷۴۸۷عن ابی ذر
مسندامام احمد،مسند الکوفیین،حدیث سلمة بن نعيم،۶/ ۳۵۷،حدیث:۱۸۳۱۲
3…شعب الایمان،باب فی الایمان باللّٰہ عزوجل،۱/ ۱۰۹،حدیث:۹۷،۹۶