عَزَّ وَجَلَّ کے کامل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر بیمار کرنے والی بری نظر سے، ہر شیطان اور زہریلے جانور سے۔“(1)
(6284)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضورنبیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ میں دیتے ہوئے یہ کلمات پڑھتے:”اُعِيْذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَّمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّة یعنی میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کامل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور بیمار کرنے والی ہربُری نظر سے۔“(2)
دوران خطبہ سامعین کارُخ کہاں ہو؟
(6285)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ جب حضورِ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر پر جلوہ فرما ہوتے تو ہم اپنا رُخ آپ کی جانب کر لیا کرتے۔
(6286)…حضرتِ سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”گروی رکھے ہوئے جانور کا دودھ بھی پیا جاسکتا ہے اور ا س پر سواری بھی کرسکتے ہیں۔(3)“(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۱۰/ ۷۲،حدیث:۹۹۸۴
2…ترمذی،کتاب الطب،باب :۱۸، ۴/ ۱۴،حدیث:۲۰۶۷
3…مستدرک حاکم،کتاب البیوع،باب الرھن محلوب ومرکوب،۲/ ۳۷۰،حدیث:۲۳۹۴
4…احناف کے نزدیک:مرہون(گِروی رکھی ہوئی) چیز سے کسی قسم کا نفع اُٹھانا جائز نہیں ہے مثلاً لونڈی غلام ہو تو اس سے خدمت لینا یا اجارہ پر دینا، مکان میں سکونت کرنا یا کرایہ پر اُٹھانا یا عاریت پر دینا، کپڑے اور زیور کو پہننایااجارہ و عاریت پر دینا الغرض نفع کی سب صورتیں ناجائز ہیں اورجس طرح مُرتَہِن(جس کے پاس گروی رکھی گئی)کونفع اُٹھانا ناجائز ہے راہِن(رکھوانے والے)کوبھی ناجائز ہے۔مرتہن کے لیے اگر راہن نے اِنتفاع کی اجازت دے دی ہے اس کی دوصورتیں ہیں۔ یہ اجازت رہن میں شرط ہے یعنی قرض ہی اس طرح دیا ہے کہ وہ اپنی چیز اس کے پاس رہن رکھے اور یہ اس سے نفع اٹھائے جیسا کہ عموماً ا س زمانہ میں مکان یا زمین اسی طور پر رکھتے ہیں یہ ناجائز اور سود ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ شرط نہ ہو یعنی عقد رہن ہو جانے کے بعد راہن نے اجازت دی ہے کہ مرتہن نفع اٹھائے یہ صورت جائز ہے۔ اصل حکم یہی ہے جس کا ذکر ہوا مگر آج کل عام حالت یہ ہے کہ روپیہ قرض دے کر اپنے پاس چیز اسی مقصد سے رہن رکھتے ہیں کہ نفع اُٹھائیں اور یہ اس درجہ معروف و مشہور ہے کہ مشروط کی حد میں داخل ہے لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے۔جس طرح مرہون سے مرتہن نفع نہیں اُٹھا سکتا راہن کے لیے بھی اس سے انتفاع جائز نہیں مگر اس صورت میں کہ مرتہن اُسے اجازت دیدے۔(بہارشریعت، حصہ۱۷، ۳/ ۷۰۲)
رہن کےمتعلق مزیدمعلومات کےلئےدعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارشریعت،…☜