پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا:”اگر نماز میں کوئی نیا حکم آتا تو میں تمہیں اُس کے بارے میں بتادیتا، میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں، تمہاری طرح بھولتا ہوں،(1) جب میں بھول جایا کروں تو مجھے یاد دلایا کرو، جب تم میں سے کسی کو نماز(کی رکعتوں) میں شک ہو تو سوچ وبچار کرکے جتنی رکعتوں پر دل جمے اسی پر نماز پوری کرے پھر سلام پھیرے اور دو سجدے کرے(2)۔“(3)
بچوں کی حفاظت کا وظیفہ:
(6283)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے:ہم بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے کہ حضراتِ حسنین کریمین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا گزر ہوا، یہ ان کے بچپن کا زمانہ تھا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:میرے بچوں کو میرے پاس لاؤ، میں اِن کو اُس کی پناہ میں دوں جس کی پناہ میں حضرت ابراہیم خَلِیْلُاللہعَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق عَلَیْہِمَا السَّلَام کو دیا تھا۔ پھر آپ نےیہ دعاپڑھی:”اُعِيْذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّة یعنی میں تمہیں اللہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……تھی لہٰذا سجدۂ سہو کرلیا اب ایسا نہیں ہوسکتا۔(مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۱۴۶)
…یہ لفظ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے منہ سے سجتا ہے ہم بشر کہہ کر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو نہیں پکار سکتے۔ رب فرماتا ہے:
” لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا ؕ (پ۱۸، النور:۶۳،ترجمۂ کنز الایمان:رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔)“یہاں صرف بھولنے میں تشبیہ ہے نہ کہ بھولنے کی نوعیت میں۔(مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۱۴۶)
حقیقَتِ حال یہ ہے کہ نماز میں آپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے کچھ رہ جانے کا معاملہ تعلیْمِ اُمَّت کے لئے تھا تا کہ امت کو یہ بتا دیا جائے کہ نماز میں بھول ہو جائے تو کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے جیسا کہ امام مالکرَضِیَ اللہُ عَنْہموطا میں حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اِنِّیْ لَاَنْسَی اَوْاُنَسَّی لِاَسُنَّ ترجمہ:بے شک میں بھولتا ہوں یا بُھلادیا جاتا ہوں تاکہ سنت قائم ہوسکے(موطاامام مالک،ص۸۴)۔(نمازمیں لقمہ دینےکےمسائل،ص۱۰)
2…اس عمل کو سجدۂ سہو کہتے ہیں:واجباتِ نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے ليے سجدۂ سہو واجب ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اَلتَّحِیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے۔(بہارشریعت، حصہ۴، ۱/ ۷۰۸)
سجدۂ سہو کے متعلق مزید معلومات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارشریعت، جلد1،حصہ4، صفحہ708 تا709 کا مطالعہ کیجئے۔
3…بخاری، کتاب الصلاة، باب التوبة نحو القبلة حیث کان، ۱/ ۱۵۷، حدیث:۴۰۱ بتغیر قلیل