Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
55 - 531
سیِّدُنا منصور بن معتمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو گورنر بننے کا پیغام بھیجا تو میں ان کے پاس ہی موجود تھا۔ داؤد کے کاتب نے آپ سے عرض کی:”امیر آپ کو گورنر بنانے کاارادہ رکھتے ہیں۔“آپ نے فرمایا:”ایسا نہیں ہوسکتا، میں تو بیمار اور کمزور آدمی ہوں۔“
(6272)…حضرتِ سیِّدُنا مغفل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ابن ہبیرہ نےحضرتِ سیِّدُنا منصور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْر کو ایک ماہ تک قید میں رکھا۔ وہ آپ کو عہدۂ قضا دینا چاہتا تھا لیکن آپ نے قبول نہ کیا۔
ماں کی ڈانٹ پر سرجھکالیتے:
(6273)…حضرتِ سیِّدُناابوبکر بن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:بسا اوقات میں حضرتِ سیِّدُنا منصور بن مُعتَمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ ان کے گھر میں بیٹھ جاتا، ان کی والدہ سخت طبیعت خاتون تھیں، وہ ان سے کرخت لہجے میں کہتیں:”منصور! ابن ہبیرہ تمہیں قاضی بنانا چاہتا ہے تم انکار کیوں کرتے ہو؟“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ داڑھی کو سینے کے  ساتھ جما لیتے (یعنی سر جھکا لیا کرتے) اور والدہ کی طرف آنکھ  نہ اٹھاتے۔
(6274)…حضرتِ سیِّدُناسفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا منصور بن معتمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”حُسنِ سلوک کا تین چوتھا ئی حصہ ماں کے لئے بیان کیا گیا ہے۔“
دفتری معاملات میں احتیاط:
(6275)…حضرتِ سیِّدُناحسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا منصور بن معتمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شاہی دفتر میں تھے۔ ایک شخص نے کہا:”مُہر لگانے والی مٹی دیجئے تاکہ مہر لگا سکوں۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:”مجھے اپنی تحریر دکھاؤ تاکہ میں دیکھ لوں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔“
(6276)…حضرتِ سیِّدُناامام شُعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا منصور بن معتمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَمَنۡ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیۡنَ ﴿۲۰﴾ (پ۱۴،الحجر:۲۰)	
ترجمۂ کنز الایمان:اور (تمہارے بس میں) وہ کردئیے جنہیں تم رزق نہیں دیتے۔
	اور فرمایا: ان سے مراد جنگلی جانور ہیں ۔