Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
54 - 531
آپ کہتے:”آپ منصور کو چھوڑ دو کیونکہ دو صور پھونکنے کے درمیان لمبی نیند ہے۔“
(6266)…حضرتِ سیِّدُنا زائدہ بن قُدامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا منصور بن معتمررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےپوچھا:”کیامیں روزہ رکھ کراُمراکےپاس جاسکتاہوں؟“آپ نے فرمایا:نہیں۔ میں نے کہا:”میں ان لوگوں کے پاس جا تا ہوں جو امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر و عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی صحبت میں رہے  ہیں۔“آپ نے فرمایا:”یہ ٹھیک ہے۔“
(6267)…حضرتِ سیِّدُناابوبکر بن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّحضرتِ سیِّدُنامنصور بن مُعتَمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر رحم فرمائے، آپ بکثرت روزے رکھتے اور نماز پڑھتے تھے۔“
حدیث پاک کی تعظیم:
(6268)…حضرتِ سیِّدُنا مُغِیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا ابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بڑے عبادت گزار تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا منصوررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ان کے پاس آیا کرتے تھے، جب حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ احادیث بیان کرتے تو حضرتِ سیِّدُنا منصوررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہتعظیماً سمٹ کر بیٹھ جاتے تھے۔
(6269)…حضرتِ سیِّدُنازائدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا منصور بن مُعتَمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”کیا  میں روزے کی حالت میں حاکم سے کچھ لے سکتا ہوں؟“ فرمایا:”نہیں۔“ پھر میں نے پوچھا:”کیا روزے کی حالت میں خواہشات کے پیروکاروں سے کچھ لےسکتا ہوں؟“ فرمایا:” ہاں۔“
عہدۂ قضا سے بیزاری:
(6270)…حضرتِ سیِّدُناابوعَوانہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا منصور بن معتمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ منصبِ قضا پر فائز ہوئے تو ایک شخص نے آکر اپنا قصہ بیان کیا۔ آپ نے پوچھا:”میں تمہاری بات سمجھ چکا ہوں لیکن اس کاحل نہیں جانتا۔“آپ ہرایک کو ایسا ہی کہتے۔ آپ کو اس منصب پر فائز کرنے والے یعنی ابنِ ہبیرہ سے آپ کی شکایت کی گئی تو آپ نے فرمایا:”یہ معاملہ اس  وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا  جب تک اس کی خواہش کرنے والے کو یہ منصب  نہ دے دیا جائے۔“پھر آپ نے منصبِ قضا چھوڑ دیا۔
(6271)…حضرتِ سیِّدُنامغفل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب حاکم ِوقت داؤد بن علی نے حضرتِ