اختیارکیجئے،اس ذات کی قسم جس کےقبضَۂ قدرت میں میری جان ہے!تورات شریف میں لکھاہےکہ آسمانی بادشاہ کی طرف سے زمینی بادشاہ کے لئے ہلاکت ہے اور آسمانی حاکم کی طرف سے زمینی حاکم کے لئے ہلاکت ہے۔امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:”اِلَّا مَنْ حَاسَبَ نَفْسَہٗیعنی سوائے اس کےجو اپنےنفس کامحاسبہ کرے۔“عرض:اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نازل کردہ کتاب تورات میں ان دونوں آیات کے درمیان ”اِلَّا مَنْ حَاسَبَ نَفْسَہٗ“ہی ہے۔
”سُبْحٰنَ اللہ“کہنے کی برکت:
(7611)…حضرتِ سیِّدُناسعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدبیان کرتےہیں ہےکہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےایک دن حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکےسامنے ایک شخص کوکوڑے مارنے کا حکم دیا۔اس شخص کو کوڑا لگاتواس نے”سُبْحٰنَ اللہ“کہا،امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جلادکوحکم دیا:اسےچھوڑدو۔یہ دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارمسکرانےلگے۔امیرالمؤمنین نے پوچھا:کیوں مسکرا رہےہیں؟عرض کی:اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے !بےشک ”سُبْحٰنَ اللہ“ کہنا عذاب میں تخفیف کرتاہے۔
70ہزارصبح ہیں70ہزارشام:
(7612)…حضرتِ سیِّدُنانُـبَـیْہبن وَہْبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:روزانہ طُلُوعِ فجرکےوقت70ہزارفرشتےآکرروضَۂ رسول کوگھیرلیتےہیں، اپنےپربچھادیتےہیں اوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردرود شریف پڑھتےرہتے ہیں۔ جب شام ہوتی ہےتووہ چلےجاتےہیں اور70ہزاراورآجاتےہیں وہ بھی اسی طرح کرتے ہیں اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا حتّٰی کہ جب زمین پھٹےگی توحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم70ہزار فرشتوں کی جُھرمَٹ میں روضَۂ انورسےباہرتشریف لائیں گےاور وہ فرشتے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم بجا لائیں گے۔
روزِقیامت ابلیس کو بھی بخشش کی طمع:
(7613)…حضرتِ سیِّدُناسعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدبیان کرتےہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ