عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:اُس ذات کی قسم جس نے بنی اسرائیل کےلئے سمندر کو پھاڑا!تورات شریف میں مذکور ہے :اے ابنِ آدم! اپنے رب سے ڈر، والدین کے ساتھ نیک سلوک کر اور رشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آ،میں تیری عُمْر کو بڑھادوں گا،تیرے کاموں میں آسانی اورتیری مشکلات کودور کردوں گا۔
گھرسے نکلتے وقت کی دعا:
(7609)…حضرتِ سیِّدُناضَمْرَہ سَلولیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:جب کوئی شخص گھرسےنکلتےوقت:بِسْمِ اللهِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّابِاللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ(1) پڑھتا ہے تواس سے کہا جاتاہے :’’تجھے ہدایت وکفایت دی گئی اور تیری حفاظت ہو گئی۔‘‘(2) جب وہ یہ کہہ کر گھر سے نکلتا ہے تو شیطان اس کے سامنے آتا ہے اور اپنے چیلوں سے کہتا ہے :تمہارا اس پر کوئی قابو نہیں کیونکہ اسے ہدایت مل گئی ،اس کی حفاظت ہوگئی اور اسے کفایت دی گئی لہٰذا تم اس کے سوا کسی اور کو تلاش کرو۔پس شیاطین اسے بہکانے سے بازرہتےہیں۔
تورات میں مُوافقَتِ فاروقی:
(7610)…حضرتِ سیِّدُناسعیدبن ابُوہِلالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےپاس سےگزرے تواس وقت آپ ایک شخص کوچابک سےماررہےتھے۔یہ دیکھ کرانہوں نےعرض کی:اےامیرالمؤمنین!نرمی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنام سےابتداکرتا ہوں کہ نیکی کرنے کی طاقت اوربرائی سےبچنےکی قوت اسی کی توفیق سے ہےاور میں نے اسی پربھروساکیا۔
2…مُفَسِّرشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد4، صفحہ48 پراس کے تحت فرماتے ہیں:یعنی اس دعا کے پڑھنے پر غیبی فرشتہ اس سے خطاب کرکے کہتا ہے کہ تو نے بِسْمِاﷲکی برکت سے ہدایت پائی اور تَوَ کُّل عَلَی اﷲ کے وسیلہ سے کفایت اورلاحول کے واسطہ سے حفاظت،تین چیزوں پر تین نعمتیں ملیں۔خیال رہےکہ اگرچہ ہم فرشتہ کا یہ کلام سنتے نہیں مگر جب حضور انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی معرفت ہم تک یہ کلام پہنچ گیاتواس کاکہنا عَبَث نہ ہوا لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ہم اس پر فرشتہ کا یہ کلام سنتے نہیں تو اس کا کہنا بیکار ہے،نیز فرشتہ کے اس کلام کا عملی طور پر ظہور بھی ہوجاتا ہے کہ اس بندے کو یہ تینوں نعمتیں مل جاتی ہیں۔