ہجرت مدینہ طیبہ میں اور ان کا ملک شام میں ہو گا۔(1)
(7601)…حضرتِ سیِّدُناعَلاءبن مُسَیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے والدِماجدسےروایت کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:حضرتِ سیِّدُنامحمدِمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاذکرتورات میں یوں مذکورہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےارشادفرمایا:”حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرےمُتَوکِّل بندے اورپسندیدہ ہیں ،وہ سخت مزاج اور سخت دل نہیں ہیں، نہ بازاروں میں شورمچانےوالے ہیں۔ وہ بُرائی کا بدلہ برائی سےنہیں دیں گے بلکہ مُعاف کردیں گےاور بخش دیں گے،ان کی ولادت مکہ مکرمہ میں،ہجرت مدینہ طیبہ میں اور ملک شام میں ہو گا۔“
اُمَّتِ محمدیہ پر فضْلِ خداوندی:
(7602)…حضرتِ سیِّدُناابوخلیلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:یہودی عُلَما مجھےاس بات پرملامت کرتے ہیں کہ میں اُس اُمت میں شامل ہواہوں جن میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پہلے باہم امتیاز رکھا پھر ان سب کو جنت میں یکجا فرمائےگا۔یہ کہہ کرآپ نے ان آیاتِ مقدسہ کی تلاوت کی:
ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصْطَفَیۡنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ ۚ وَ مِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَ مِنْہُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیۡرٰتِ بِاِذْنِ اللہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیۡرُ ﴿ؕ۳۲﴾ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوۡنَہَا (پ۲۲،فاطر:۳۳،۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چُنے ہوئے بندوں کو تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور اُن میں کوئی میانہ چال پر ہے اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا یہی بڑا فضل ہے بسنے کے باغوں میں داخل ہوں گے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مُفَسِّر شہیر ،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد8، صفحہ34 پر اس کے تحت ارشاد ارشاد فرماتے ہیں:یعنی ان کے بعد ان کی خلافت مدینہ یا عراق میں رہے گی مگر ان کی سلطنت شام میں ہوگی۔چنانچہ اسلام کے پہلے سلطان حضرت امیر معاویہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ )کا دارالخلافہ دمشق بنا یعنی ملک شام کا ایک شہر،یہاں ملک سے مراد ملک نبوت نہیں حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کا ملک نبوت تو سارا جہاں ہے”لِیَکُوۡنَ لِلْعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا“(مرقات)اوراگرملکِ نبوت مرادہوتوچونکہ شام میں ہمیشہ جہادوں کازوررہاہےاس لیےاسےخُصُوصیت سےبیان کیا۔