بیان کریں گےاور ہرنَشَیْب میں تسبیح وتحمید بجالائیں گے،ان کی اذان آسمان کی فضامیں گونجےگی،نمازمیں ان کی آواز ایسی ہو گی جیسی چٹان پر شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ، وہ نماز میں فرشتوں کی طرح صفیں بنائیں گے، میدان جہاد میں نمازکی طرح صف بناکر کھڑے ہوں گے، جب راہِ خدا میں جہاد کریں گے تو فرشتے مضبوط نیزے لئے ان کے آگے پیچھے ہو ں گے،جب جہاد کے لئے صف میں آئیں گےتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ان پر سایہ فگن ہوگی(ساتھ ہی حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنےِدھوں کےاپنےگھونسلےپرسایہ کرنےکےاندازکی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا)یہ لوگ کبھی بھی اپنے لشکرسےپیچھےنہیں ہٹیں گےحتّٰی کہ حضرتِ سیِّدُناجبرائیل عَلَیْہِ السَّلَامان کےپاس حاضر ہوجائیں گے۔
تورات میں نعْتِ نبی:
(7600)…حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکےبھتیجےکابیان ہےکہ میرےچچا حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:ہم نےتورات کی ایک سطرمیں حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نعت یوں موجودپائی:حضرت احمدِمجتبیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں اور ان کے اُمَّتِی بہت حمدکرنےوالےہیں جوہرحال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمدکریں گےاورہربلندی پرتکبیرکہیں گے،سورج کاخیال رکھیں گے، نمازوں کو اُن کے اوقات میں ادا کریں گےاگر چہ خَس وخاشاک کے ڈھیر پر کیوں نہ ہوں، ان کے تہبند نصف پنڈلیوں تک ہوں گے،اپنےاعضاءکا وضو کریں گے،(رات میں)آسمان کی فضا میں ان کی آوازشہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ہو گی (1)اور ہم نے دوسری سطر میں یہ لکھا پایا:حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے پسندیدہ بندےہیں،وہ سخت مزاج،سخت دل،بازاروں میں شورمچانےوالےنہیں ہیں، وہ بُرائی کا بدلہ بُرائی سےنہیں دیں گے بلکہ مُعاف کردیں گے اور بخش دیں گے،ان کی ولادت مکہ میں، ان کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مُفَسِّر شہیر ،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد8، صفحہ36 پر اس کے تحت فرماتے ہیں:ظاہر یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد آخری رات کی نماز ہے یعنی تہجد،وہ لوگ تہجد کی نماز میں قرأت قرآنیہ آہستہ کیا کریں گے مگر پھر بھی ان کے سینوں سے رونے کی گِڑگِڑاہٹ ایسی محسوس ہوگی جیسے شہد کی مکھیوں کی بنبناہٹ،یا اس سے مراد ہے آہستہ آہستہ درد والی آواز سے تلاوتِ قرآن اور تسبیح و تہلیل ہے،اللہتعالیٰ یہ علامت ہم گنہگاروں کوبھی نصیب فرمائے۔آمین