صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُمَّت ہے۔‘‘یہ سن کریہودی عالِم نے کہا:ہاں ایساہی ہے۔جب حضرتِ سیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکواس فضیلت سےتعجب ہونےلگاجواللہعَزَّ وَجَلَّنےسیِّدُالانبیاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اُن کی اُمَّت کوعطافرمائی توکہنےلگے:’’ کاش!میں حضرتِ سیِّدُنامحمدِمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاصحاب میں سے ہوتا۔‘‘تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی رضا کےلئےتین آیات نازل فرمائیں:
(2،1)…
یٰمُوۡسٰۤی اِنِّی اصْطَفَیۡتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیۡ وَ بِکَلٰمِیۡ ۫ۖ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیۡتُکَ وَکُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾ وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الۡاَلْوَاحِ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ ۚ فَخُذْہَا بِقُوَّۃٍ وَّاۡمُرْ قَوْمَکَ یَاۡخُذُوۡا بِاَحْسَنِہَا ؕ سَاُورِیۡکُمْ دَارَ الْفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾ (پ۹،الاعراف:۱۴۴، ۱۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اے موسٰی میں نے تجھے لوگوں سے چُن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہواور ہم نے اس کے لئے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اور فرمایااے موسٰی اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دےکہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بے حکموں کا گھر۔
(3)…
وَ مِنۡ قَوْمِ مُوۡسٰۤی اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالْحَقِّ وَبِہٖ یَعْدِلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾ (پ۹،الاعراف:۱۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور موسٰی کی قوم سے ایک گروہ ہے کہ حق کی راہ بتاتا اور اسی سے انصاف کرتا۔
یہ سن کرحضرتِ سیِّدُناموسٰیکَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَامپوری طرح راضی ہو گئے۔
تورات میں اُمَّتِ محمدیہ کے اوصاف:
(7599)…حضرتِ سیِّدُناسعیدبن ابُوہِلالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہبن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانےحضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارسےفرمایا:ہمیں اُمَّتِ محمدیہ کےاوصاف کےبارے میں بتایئےتوآپ نےبیان کیا:میں نےکتابُاللہمیں ایسےلوگوں کاذکرپایاہےجو بہت حمدکرنےوالے ہوں گے،ہرخیروشرمیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمدکریں گے،ہر بلندی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کِبریائی