تورات میں اُمَّتِ محمدیہ کی فضیلت:
(7598)…حضرتِ سیِّدُناعبْدُالرحمٰن مَعافِریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنےایک یہودی عالِم کو روتےدیکھاتوفرمایا:کیوں رورہےہو؟اس نےکہا:کچھ یاد آگیا تھا۔فرمایا:میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم دےکرپوچھتاہوں، اگر میں یہ بتا دوں کہ تم کیوں رو رہے ہو تو کیا میری تصدیق کرو گے؟اس نے کہا:ہاں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم دے کرپوچھتا ہوں،کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نازل کردہ کتاب میں یہ بات پڑھی ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُ اللہعَلَیْہِ السَّلَام نے تورات میں دیکھا توکہا:’’اے میرےمولا!میں نے تورات میں ایک ایسی امت کا ذکر پایا ہے جوسب امتوں سےبہترہوگی،لوگوں کو بھلائی کا حکم دےگی اور بُرائی سے منع کرے گی،وہ پہلےاوربعد والی تمام کتابوں پر ایمان لائے گی،گمراہوں سے قِتال کرے گی حتّٰی کہ کانےدجال کو بھی قتل کرے گی۔‘‘ یہ کہہ کرحضرتِ سیِّدُناموسٰیعَلَیْہِ السَّلَامنےعرض کی:’’اےمیرےپاک پرورگارعَزَّوَجَلَّ!اسےمیری اُمَّت بنا دے۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّنےارشادفرمایا:’’اےموسٰی!وہ احمدِمجتبیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُمَّت ہے۔‘‘یہ سن کریہودی عالِم نے کہا:ہاں ایسا ہی ہے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں:کیاتم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نازل کردہ کتاب میں یہ بات پڑھی ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُاللہ عَلَیْہِ السَّلَامنے تورات میں دیکھاتوکہا:’’اےمیرےپروردگارعَزَّ وَجَلَّ!میں نےایک ایسی امت کا ذکر پایا جس کے لوگاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بہت حمد کریں گے،سورج کا خیال رکھیں گے(1)اور منصَبِ حکومت وامامت پر فائز ہوں گے،جب کسی کام کا ارادہ کریں گےتوکہیں گے:اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم اس کام کو کریں گے۔“یہ کہہ کر حضرتِ سیِّدُناموسٰیعَلَیْہِ السَّلَامنےعرض کی:’’اےمیرےپروردگارعَزَّ وَجَلَّ!اسےمیری اُمَّت بنادے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنےارشادفرمایا:اےموسٰی!وہ احمدِمجتبیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُمَّت ہے۔یہ سن کریہودی عالِم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یعنی نماز اور روزوں کی وجہ سے ہمیشہ سورج کے طلوع غروب استوا کا حساب رکھیں گے اور اس کی جنتریاں چھاپا کریں گے۔اسلامی نمازیں افطار سحری تو سورج سے ہیں مگر خود روزے عیدیں حج وغیرہ چاند سے اس لئے مسلمان دونوں کا حساب رکھتے ہیں اور کوئی قوم یہ دونوں کام نہیں کرتی ۔(مراٰۃ المناجیح، ۸/۵ ۳)